کاشگل نیوز خصوصی رپورٹ
پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں جنگلات تیزی سے ختم ہونے لگے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 11.2 فیصد سے گھٹ کر تقریباً 6 فیصد رہ گئے ہیں۔
جموں کشمیر میں جنگلات میں خطرناک حد تک کمی رپورٹ کی گئی ہے۔
محکمہ لینڈ یوز پلاننگ کے حال ہی میں ریٹائرڈ ہونے والے ڈائریکٹر مشتاق پیرزادہ کے مطابق سال 2002 میں خطے میں کل جنگلات 11.2 فیصد تھے جو 2016 میں کم ہو کر 10.5 فیصد رہ گے ہیں۔
2017 میں یہ شرح مزید گھٹ کر 9.8 فیصد ہو گئی جبکہ حالیہ تخمینوں کے مطابق جنگلات اب محض 6 فیصد سے کچھ زائد رہ گئے ہیں یعنی صرف 23 سالوں میں 6 فیصد جو کہ تئیس سالوں میں تقریبا 50 فیصد کمی بنتی ہے
اعداد و شمار کے مطابق متاثر ہونے والے جنگلات میں چیڑ ،فر ،دیودار اور کائل جیسے قیمتی درخت شامل ہیں، جو نہ صرف ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے بلکہ مقامی معیشت، آبی ذخائر کے تحفظ اور موسمیاتی اثرات کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
دوسری جانب الپائن پاسچر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2010 میں الپائن پاسچر 14 فیصد تھا، جو 2017 میں بڑھ کر 15.2 فیصد اور 2018 میں 18 فیصد تک جا پہنچا۔
یاد رہے الپائن پاسچر سے مراد درخت نہیں بلکے سر سبز جھاڑیاں ہیں ۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ بالائی علاقوں میں درجہ حرارت میں تبدیلی اور جنگلاتی حدود کے اوپر کی جانب سرکنے کا نتیجہ ہو سکتا ہے، جو موسمیاتی تبدیلی کی واضح علامت ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں جنگلات کے تیزی سے خاتمے کی بڑی وجوہات میں جنگلات کی بے دریغ اور غیر قانونی کٹائی، جنگلی آگ کے بڑھتے واقعات، بڑھتی آبادی کا دباؤ اور حکومتی سطح پر مؤثر نگرانی اور جامع منصوبہ بندی کا فقدان شامل ہے۔
عوامی اور ماحولیاتی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جنگلات کے تحفظ کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں، شجرکاری مہمات کو مؤثر بنایا جائے، جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے جدید نظام متعارف کرائے جائیں اور غیر قانونی کٹائی کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے، بصورت دیگر خطہ شدید ماحولیاتی بحران اور قدرتی آفات کے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔
Share this content:


