عوامی حقوق کی تحریک ایک ناگزیر جدوجہد۔۔۔ خواجہ کبیر احمد

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جو قدرتی وسائل، محنت کش عوام اور سیاسی شعور کے اعتبار سے بے پناہ صلاحیتوں کا حامل ہے، مگر بدقسمتی سے یہاں کی اکثریتی آبادی آج بھی بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے۔ بجلی پیدا کرنے والا خطہ خود ضرورت کے مطابق بجلی سے محروم اور مجبور ہے، تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار ہیں اور فیصلہ سازی عوام کے بجائے مراعات یافتہ طبقوں کے ہاتھ میں ہے۔ ایسے حالات میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے جاری عوامی حقوق کی تحریک کو مضبوط کرتے ہوۓ آگے بڑھانا نہ صرف ایک ضرورت ہے بلکہ ایک قومی اور تاریخی فریضہ بن چکی ہے۔

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے جاری عوامی حقوق کی تحریک دراصل اس شعور کا نام ہے جو عوام کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ محض رعایا نہیں بلکہ وسائل کے اصل مالک ہیں۔ یہ تحریک روٹی، روزگار، تعلیم، صحت، سستی بجلی، حق ملکیت و حق حکمرانی اور باوقار زندگی کے مطالبات کو یکجا کرتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس تحریک کو مزید مضبوط کیسے کیا جائے اور اسے آقا اور غلام کے فرق کو مٹانے کی طرف کیسے بڑھایا جائے؟

سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کسی بھی مضبوط تحریک کی مکمل کامیابی کا انحصار واضح سوچ و فکر پر ہوتا ہے۔ جب تک عام عوام یہ نہیں سمجھیں گے کہ ان کے مسائل کی جڑ استحصال، غیر منصفانہ نظام اور مراعات یافتہ اقلیت کی بالادستی ہے، تب تک جدوجہد وقتی رہے گی۔ عوامی حقوق کی تحریک کو قومی احساسات کے ساتھ ساتھ بنیادوں سے شعور سے جوڑنا ہوگا تاکہ یہ تحریک صرف جذباتی نعروں اور وقتی ریلیف تک محدود نہ رہے بلکہ ایک معاشی انقلابی سمت اختیار کرے۔

دوسرا اہم پہلو بالکل نچلی سطح سے عوامی سطح پر بنیادی اور مضبوط تنظیم سازی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کے کوئی بھی ایسی تحریک دیرپا ثابت نہیں ہو سکتی جسکی جڑیں بالکل بنیادی سطح پر نا ہوں اور ایسی جڑوں کے لیے پہلے غیر ہموار زمین کو ہموار کرنے کے بعد أس میں بیج بویا جاتا ہے تب جڑیں بنیاد سے پھوٹتی ہیں۔ گاؤں، محلوں، تعلیمی اداروں اور کام کی جگہوں پر مضبوط عوامی ایکشن کمیٹیز جنکا انتخاب مکمل آزادانہ اور عوامی راۓ سے ہو،کا قیام ناگزیر ہے۔ ان کمیٹیز کا اندرونی ڈھانچہ جمہوری ہونا چاہیے، جہاں قیادت عوام کے سامنے جوابدہ ہو اور فیصلے اجتماعی مشاورت سے ہوں۔ نوجوانوں اور خواتین کو محض جلسوں کی رونق نہیں بلکہ فیصلہ سازی کا حصہ بنانا ہوگا، کیونکہ یہی طبقات کسی بھی تبدیلی کی اصل قوت ہوتے ہیں۔

تیسرا اہم نکتہ عوامی رابطہ ہے۔ عوامی حقوق کی تحریک کو پیچیدہ اصطلاحات کے بجائے سادہ اور مقامی زبان میں بات کرنی ہوگی۔ اشرافیہ کی مراعات ،بجلی ، آٹے کی قیمت اور کوالٹی، بے روزگاری اور ٹھیکیداری نظام جیسے روزمرہ مسائل اور اپنے وسائل پر مکمل کنٹرول کو تحریک کا مرکز بنانا ہوگا۔ شاعری، لوک موسیقی، اور سوشل میڈیا جیسے ذرائع عوامی شعور بیدار کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں، بشرطیکہ ان کا استعمال منظم اور مقصدی ہو۔

چوتھا پہلو عملی جدوجہد ہے۔ پرامن احتجاج، دھرنے، جلوس اور عوامی دباؤ وہ راستے ہیں جن سے طاقتور ایوانوں کو جھکایا جاتا ہے اور یہ ثابت ہو چکا ہے ۔ جسے جاری رکھنا ہو گا۔ ساتھ ہی ریاستی جبر کے مقابلے کے لیے قانونی شعور، انسانی حقوق کی دستاویز بندی اور وسیع اتحاد سازی ناگزیر ہے۔ مزدور ، طلبہ، اساتذہ اور وکلا اور ہر شعبہ ہاۓ زندگی کے ساتھ یکجہتی مستقبل کے لیے تحریک کو ناقابلِ نظرانداز قوت بنا سکتی ہے۔
تمام انسانوں کے لیے برابری کے نظام کا قیام محض ایک خواب نہیں بلکہ ایک عملی ہدف ہونا چاہئیے۔ اس کے لیے بجلی، پانی، جنگلات اور معدنی وسائل پر عوامی ملکیت کو تسلیم کروانے کے لیے پر امن جدوجہد کو مزید مضبوط کرتے ہوۓ اگلے اسٹیج پر لے جانا ہو گا ۔ مقامی خود انحصاری کی طرف توجہ دیتے ہوۓ اسکی اہمیت کو أجاگر کرنا ہو گا ۔اپنے وسائل پر اپنا حق ملکیت لینے اور خودانحصاری کو فروغ دینے سے ہی طبقاتی خلیج کو کم کیا جا سکتا ہے اور حقیقی سماجی انصاف کا نظام قائم ہو سکتا ہے۔

عوامی حقوق کی تحریک کسی ایک فرد،گروہ یا جماعت کی میراث نہیں ہوا کرتی بلکہ پورے سماج کی مشترکہ جدوجہد ہوتی ہے۔ دیانت دار قیادت، سادہ طرزِ زندگی، اختلافِ رائے کا احترام اور مسلسل جدوجہد ہی وہ اوصاف ہیں جو کسی بھی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کر سکتے ہیں۔ منظم ہو کر اپنے حقوق کے لیے آواز نہ اٹھانے والوں کو تاریخ خاموش تماشائیوں کے طور پر یاد رکھتی ہے۔ اور اگر اجتماعی طور پر شعور، اتحاد اور جدوجہد کے راستے پر گامزن رہا جاۓ تو ایک منصفانہ اور باوقار سماج کا قیام کوئی بعید از قیاس خواب نہیں رہتا بلکہ حقیقت بنکر باقی دنیا کے مظلوم انسانوں کے لیے ایک مثال بن جاتا ہے۔


***

Share this content: