مظفرآباد / کاشگل نیوز
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کی تحصیل پٹہکہ میں واقع چڑیا گھر میں ایک کم عمر مارخور کی پراسرار ہلاکت نے شہریوں اور ماحولیاتی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق تقریباً نو ماہ عمر کا یہ مارخور تین سے چار ماہ قبل ضلع حویلی کہوٹہ کے علاقے سے ریسکیو کیا گیا تھا، جس کے بعد اسے پٹہکہ چڑیا گھر منتقل کر دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چڑیا گھر میں عملے کی کمی، ناکافی طبی نگرانی اور مناسب خوراک کی عدم فراہمی جیسے مسائل نایاب جنگلی جانوروں کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
محکمہ وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر نے واقعے سے متعلق موقف اختیار کرتے ہوئے بتایا کہ چند ماہ قبل حویلی ہلاں کے مقام پر یہ نومولود مارخور بکروالوں کے ریوڑ میں شامل ہو کر اپنے اصل ریوڑ سے بچھڑ گیا تھا۔ مارخور کی ماں کی تلاش کی گئی تاہم ناکامی پر اسے پٹہکہ چڑیا گھر منتقل کیا گیا۔
ڈائریکٹر وائلڈ لائف کے مطابق گزشتہ روز مارخور کو مردہ حالت میں پایا گیا، جبکہ ڈاکٹروں کی جانب سے مرتب کی گئی رپورٹ میں موت کی وجہ ہارٹ اٹیک بتائی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مارخور نئے ماحول سے ہم آہنگ نہ ہو سکا یا ممکنہ طور پر ذہنی دباؤ (اینزائٹی) کے باعث یہ واقعہ پیش آیا۔
دوسری جانب شہریوں اور ماحولیاتی تنظیموں نے مارخور جیسے قومی اور نایاب جانور کی ہلاکت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان حلقوں کا مطالبہ ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔
ماحولیاتی ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹہکہ چڑیا گھر سمیت تمام وائلڈ لائف مراکز میں معیاری دیکھ بھال، مؤثر طبی سہولیات اور پیشہ ورانہ انتظامات کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے تاکہ نایاب جنگلی حیات کا تحفظ ممکن ہو سکے اور آئندہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔
Share this content:


