مظفرآباد/ کاشگل نیوز
پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ جموں و کشمیر میں جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر امتیاز اسلم نے حکومت اور محکمہ برقیات سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کے میٹرز کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ فوری طور پر واپس لیا جائے، کیونکہ یہ اقدام عوام دشمن ہے اور عام آدمی پر بلاجواز مالی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بجلی کے میٹر کم قیمت پر نصب کیے جائیں تاکہ عوام بآسانی میٹر لگوا سکیں اور بجلی چوری کی مؤثر روک تھام ممکن ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگے میٹرز مسلط کرنے کی موجودہ پالیسی نہ عوام کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ریاستی مفاد سے ہم آہنگ ہے۔
امتیاز اسلم نے انکشاف کیا کہ حکومت کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے برعکس میرپور ڈویژن میں بجلی کے میٹر کی قیمت 4,880 روپے سے بڑھا کر 5,286 روپے کر دی گئی ہے، جو صریح وعدہ خلافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ای۔ٹینڈر کے ذریعے شفاف خریداری کے دعوے کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈال کر حقائق کو مسخ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی مدت ختم ہونے میں ابھی 12 دن باقی ہیں، لیکن عملی اقدامات کے بجائے محض تقاریر اور ہوائی اعلانات کے ذریعے عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ان باقی دنوں میں معاہدے کی تمام شقوں پر من و عن عملدرآمد کو یقینی بنائے۔
امتیاز اسلم نے خبردار کیا کہ بار بار کی معاہدہ شکنی، وعدہ خلافی اور ٹال مٹول سے عوام پر حکومت اور اس نظام کی اصل حقیقت واضح ہو چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر مقررہ مدت کے اندر معاہدوں پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی احتجاج سمیت تمام آئینی و جمہوری آپشنز استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔
Share this content:


