اسلام آباد سے خاتون صحافی پریشہ خان جعلی مقدمے میں گرفتار

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد کے تھانہ شہزاد ٹاؤن میں آوارہ کتوں کی کفالت کرنے والی خاتون صحافی پریشہ خان کو سیکورٹی اداروں نے ایک جعلی مقدمے میں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔

ذرائع کے مطابق سی ڈی اے ملازمین نے کال کر کے صحافی کو ڈاگ سینٹر پہنچنے کی درخواست کی گئی۔

جب خاتون صحافی ڈاگ سینٹر پہنچیں تو ان کوکتے چوری کے الزام میں گرفتار کر کے انکے خلاف ایف آئی آر درج کر کے باضابطہ گرفتاری ڈال دی گئی ۔

عوامی اور انسانی حقوق حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ تمام حرکت اس بات کی ثبوت ہے کہ یہ کارروائی پہلے سے طے شدہ سازش کی بنیاد پر تیار کی گئ تھی۔

ان حلقون کا کہنا ہے کہ سی ڈی اے اور اسلام آباد پولیس کے اس گٹھ جوڑ اور جعلی گرفتاری کی وجہ خاتون صحافی کی جانب سے کرپشن اور بدعنوانی کو بے نقاب کرنا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ آزادیٔ صحافت، انسانی ہمدردی اور جانوروں کے حقوق پر براہِ راست حملہ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ صحافی نے اسلام آباد پولیس اور سی ڈی اے کی بد عنوانیوں کو بے نقاب کرنے سمیت ڈاگ سینٹر کیلئے مختص کی گئیں 19 کروڑ کے فنڈز پر سوال اٹھا یا تھا کہ وہ کہاں گئے ؟ اور بیچارے بے زبان کتے بھوکے کیوں رکھے جاتے ہیں؟

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سچ بولنے اور خدمت کرنے کی سزا قید نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے صاحبان اقتدار سے خاتون صحافی کی فوری رہائی،مقدمہ ختم کرنے، اور معاملہ کی اعلیٰ سطحی انکوائری کر کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیاہے۔

Share this content: