اسلام آباد / جموں و کشمیر/کاشگل نیوزخصوصی رپورٹ
پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ جموں و کشمیر اور پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے حقوق اور اسٹیٹس کے سلسلے میں ایک بڑے سیاسی اور انتظامی تنازع نے جنم لے لیا ہے، جس میں پانچ اعداد و شمار اور شدید تحفظات سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تقریباً 70 ہزار جعلی ڈومیسائل جعلی بنیادوں پر جاری کیے گئے ہیں، جن کا مقصد مبینہ طور پر سرکاری مراعات، بھرتیاں اور سرکاری خدمات کا ناجائز فائدہ اٹھانا ہے۔ ایسے دعوے سامنے آئے ہیں کہ اس جعلی ڈومیسائل تنازع میں تقریباً 20 ہزار سرکاری ملازمین مبینہ طور پر جعلی ڈومیسائل کی بنیاد پر تعینات کیے گئے ہیں، جس نے تشویش اور غم و غصے کو جنم دیا ہے۔
یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا جب مہاجرین کے نمائندہ حلقوں اور حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم قانونی و سماجی تنظیموں نے ایک جامع تحقیق شروع کی۔ اس معاملے نے نہ صرف سیاسی حلقوں بلکہ عدالتی اور انتظامی سطح پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں، جس کی وجہ سے عوامی اور قانونی سطح پر جواب طلبی میں اضافہ ہوا ہے۔
حقیقی مہاجرین کا احتجاجی اعلان
حقیقی مہاجرین اور ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے نمائندوں نے 24 دسمبر کے بعد پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے تمام پریس کلبز کے باہر احتجاجی دھرنوں کا اعلان کیا ہے۔ احتجاج میں مہاجرین کو درپیش مسائل، جعلی ڈومیسائل کیسز، سرکاری ملازمتوں میں ناجائز تعیناتیاں، اور دیگر حقوق کے تحفظ سے متعلق واضح مطالبات شامل ہوں گے۔
پریس کلبز کے باہر ہونے والے ان احتجاجی دھرنوں کا مقصد:
- 1. مبینہ جعلی ڈومیسائل کیسز کی شفاف تحقیقات
2. جعلی طور پر حاصل کیے گئے سرکاری فوائد کی واپسی
3. حقیقی مہاجرین کے حقوق کا تحفظ
4. ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی
صدارتِ تنظیم مہاجرین جموں و کشمیر کا موقف
صدارتِ تنظیم مہاجرین جموں و کشمیر کے سردار زاہد اقبال ایڈووکیٹ نے اپنی تحقیق اور گفتگو میں کہا ہے کہ:
موجودہ حالات نے مہاجرین میں بے چینی اور مایوسی پیدا کی ہے۔
جعلی ڈومیسائل کے سلسلے میں واضح اور قابلِ اعتماد اعداد و شمار سامنے لانے وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
احتجاجوں اور دھرنوں کا مقصد پرامن مگر پرزور آواز اٹھانا ہے تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاملے میں مکمل تحقیقات یقینی بنائیں۔
حقیقی مہاجرین کی قانونی حیثیت اور بنیادی حقوق کو تحفظ دینے کے لیے مضبوط اور فوری اقدامات کیے جائیں۔
Share this content:


