پاکستانی جموں کشمیر میں صحافت ریاستی دباؤ کا شکار، نئی پالیسیوں پر صحافیوں کوشدید تحفظات

کاشگل نیوز خصوصی رپورٹ

پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ جموں کشمیر میں صحافت ایک بار پھر پاکستانی عسکری حکام کی دباؤ کی زد میں ہے۔ ایک طرف ریاستی اداروں کی جانب سے سنسرشپ اور معلومات تک رسائی میں رکاوٹیں موجود ہیں، تو دوسری جانب ورکنگ جرنلسٹس کو معاشی استحصال اور بیگار جیسے حالات کا سامنا ہے۔ ایسے ماحول میں آزاد صحافت کا خواب دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ ریاستی ادارے نہ صرف صحافت پر غیر اعلانیہ قدغنیں عائد کیے ہوئے ہیں بلکہ متعدد صحافیوں سے بغیر معاوضہ یا انتہائی کم اجرت پر کام لیا جا رہا ہے۔ معاشی عدم تحفظ نے صحافیوں کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں پیشہ ورانہ آزادی شدید خطرات سے دوچار ہے۔

اسی تناظر میں کشمیری ریاست کی محکمہ اطلاعات کی جانب سے سوشل میڈیا سے منسلک ورکنگ جرنلسٹس کے لیے ایک نئی پالیسی تشکیل دی جا رہی ہے، جس کا بنیادی مقصد سوشل میڈیا کے ذریعے ریاستی بیانیے کو فروغ دینا بتایا جا رہا ہے۔

اس پالیسی کے تحت سوشل میڈیا پر کام کرنے والے صحافیوں کو اشتہارات کی مد میں مراعات دینے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

تاہم، اس پالیسی پر ورکنگ جرنلسٹس کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ اگر اشتہارات دینا مقصود ہے تو اس کے لیے واضح، شفاف اور منصفانہ حدود متعین کی جائیں۔

صحافیوں کے مطابق اشتہارات صرف ریاست کے اندر موجود حقیقی اورکنگ جرنلسٹس تک محدود ہونے چاہئیں، نہ کہ انہیں کسی خاص بیانیے کی تشہیر کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جائے۔

صحافیوں نے واضح کیا ہے کہ وہ ہر اس پالیسی کی سخت مخالفت کریں گے جس کی آڑ میں آزاد صحافت کو نقصان پہنچایا جائے یا صحافیوں کو مالی دباؤ کے ذریعے کسی مخصوص ریاستی بیانیے کے فروغ پر مجبور کیا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ اشتہار دینا ریاست کی ذمہ داری ہو سکتی ہے، مگر صحافت کو کنٹرول کرنا یا خریدنے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال ستمبر میں جموں کشمیر میں ریاستی سطح پر نافذ کی جانے والی جبری سنسرشپ کے خلاف صحافیوں نے بھرپور مزاحمت کی تھی۔ اس دوران متعدد صحافیوں نے دباؤ، دھمکیوں اور پابندیوں کے باوجود حقائق کو سامنے لانے میں جرات مندانہ کردار ادا کیا، جسے صحافتی حلقوں میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جاتا ہے۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ ماضی کی طرح اب بھی آزادیِ اظہار اور غیر جانبدار صحافت کے لیے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھیں گے۔

ان کے مطابق ریاستی پالیسیوں کا مقصد اگر واقعی صحافت کی بہتری ہے تو اس کا آغاز سنسرشپ کے خاتمے، معاشی تحفظ اور صحافیوں کے حقوق کی ضمانت سے ہونا چاہیے، نہ کہ اشتہارات کے ذریعے بیانیہ سازی سے۔

Share this content: