محکمہ بہبودِ آبادی ! عوامی فلاح یا مراعات یافتہ طبقے کا تحفظ؟۔۔۔ خواجہ کبیر احمد

آزاد جموں کشمیر ( پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر ) میں عوامی حقوق، میرٹ اور گڈ گورننس کی باتیں جتنی زیادہ کی جا رہی ہیں، زمینی حقائق اتنے ہی تلخ ہوتے جا رہے ہیں۔ محکمہ بہبودِ آبادی اس وقت انہی تلخ حقائق کی ایک واضح مثال بن چکا ہے، جہاں قانون، سول سروس رولز اور ریاستی مفاد کو پسِ پشت ڈال کر ایک فرد کو غیر معمولی مراعات دینے کا سلسلہ برسوں سے جاری ہے، اور حکومت کی خاموشی اس عمل کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔

یہ محکمہ بظاہر آبادی میں توازن، خاندانی منصوبہ بندی اور ماں و بچے کی صحت جیسے حساس اور اہم امور کے لیے قائم کیا گیا تھا، مگر آج اس کی شناخت عوامی خدمت کے بجائے غیر شفاف فیصلوں، غیر قانونی ایکسٹینشنز اور قومی خزانے پر بوجھ بن چکی ہے۔ سب سے سنگین معاملہ محکمہ میں تعینات ایک ایسے ڈائریکٹر کا ہے جو قانوناً ریٹائر ہو چکے، مگر عملی طور پر آج بھی اختیارات، مراعات اور سرکاری وسائل سے مستفید ہو رہے ہیں۔

دستیاب دستاویزی حقائق کے مطابق مذکورہ ڈائریکٹر 3 مارچ 2023 کو 60 سال کی عمر مکمل کر کے ریٹائر ہو چکے تھے۔ اس کے باوجود دو سال کی ایکسٹینشن دی گئی جو مارچ 2025 میں مکمل ہو رہی ہے۔ اس دوران وہ لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ کے ساتھ ساتھ لاکھوں روپے ماہانہ پنشن بھی وصول کرتے رہے۔ یہ صورتحال نہ صرف اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے بلکہ سول سروس رولز کی کھلی اور ناقابلِ تردید خلاف ورزی بھی ہے، کیونکہ قوانین واضح طور پر اجازت نہیں دیتے کہ کوئی سرکاری ملازم ایک ہی وقت میں پنشن اور تنخواہ حکومت سے وصول کرے۔

سول سروس رولز یہ بھی کہتے ہیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ایکسٹینشن صرف غیر معمولی، تکنیکی اور ناگزیر حالات میں دی جا سکتی ہے، وہ بھی محدود مدت، واضح جواز اور شفاف طریقہ کار کے تحت۔ سوال یہ ہے کہ محکمہ بہبودِ آبادی کے ڈائریکٹر ایسے کون سے ناقابلِ متبادل تکنیکی ماہر ہیں جن کے بغیر محکمہ نہیں چل سکتا؟ کیا آزاد کشمیر میں درجنوں تعلیم یافتہ، تجربہ کار اور نوجوان افسران اس ذمہ داری کے اہل نہیں؟ اور اگر یہ ایکسٹینشن واقعی کارکردگی کی بنیاد پر دی گئی تھی تو کارکردگی کی جائزہ رپورٹ کہاں ہے؟

تشویشناک امر یہ ہے کہ اب ان 65 سالہ افسر کو مزید دو سال کی ایکسٹینشن دلوانے کی کوششیں جاری ہیں۔ یہ اقدام محض ایک فرد کو فائدہ پہنچانے تک محدود نہیں بلکہ ریاستی قوانین، عمر کی حد اور گورننس کے بنیادی اصولوں سے کھلا مذاق ہے۔ یہ وہ طرزِ عمل ہے جو عوامی اداروں کو کمزور اور ریاستی ساکھ کو مجروح کرتا ہے۔

اس پورے معاملے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ریاستی خزانے سے لاکھوں روپے ماہانہ ایک فرد پر خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف نوجوان افسران ترقی، تعیناتی اور روزگار کے مواقع سے محروم ہیں۔ میرٹ کا یہ قتل صرف چند افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک پوری نسل کی حوصلہ شکنی ہے، جو ریاستی نظام سے بدظن ہو رہی ہے۔

یہ معاملہ محکمہ بہبودِ آبادی کی مجموعی افادیت پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ عوام آج بھی نہیں جانتے کہ اس محکمہ کی سالانہ فنڈنگ کتنی ہے، اخراجات کہاں ہوتے ہیں، اور اس کی خدمات عام شہری کی زندگی میں کہاں نظر آتی ہیں۔ نہ کوئی واضح عوامی رپورٹ، نہ شفاف آڈٹ، اور نہ ہی عوامی فیڈ بیک کا کوئی مؤثر نظام موجود ہے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ محکمہ واقعی عوامی فلاح کے لیے ہے یا محض چند عہدوں اور مراعات کو برقرار رکھنے کا ذریعہ بن چکا ہے؟

عوامی حلقوں میں اب یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کے وسائل کو براہِ راست عوامی صحت اور فلاح پر خرچ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کوچاہئیے کے ایسے کیسز کو غیر قانونی قرار دے کر فوری طور پر ختم کیا جائے، پنشن اور تنخواہ بیک وقت لینے سمیت تمام خلاف ورزیوں پر قانونی و انضباطی کارروائی کی جائے، اور غیر قانونی ادائیگیوں کی مکمل ریکوری عمل میں لائی جائے۔

یہ معاملہ محض ایک افسر یا ایک محکمہ کا نہیں رہا۔ یہ قانون کی بالادستی، ریاستی وقار اور نوجوان نسل کے مستقبل کا سوال بن چکا ہے۔ اگر حکومت نے اب بھی خاموشی اختیار کیے رکھی تو یہ خاموشی اصلاح نہیں بلکہ ملی بھگت سمجھی جائے گی۔ عوام اب وعدے نہیں، عمل اور جواب دہی چاہتے ہیں اور یہی کسی بھی ریاست کے مضبوط ہونے کی اصل بنیاد ہے۔

***

Share this content: