پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ جموں کشمیر کے علاقے باغ میں خواتین ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام "عوامی حقوق تحریک: ماضی، حال اور مستقبل” کے عنوان سے چوتھا ماہانہ اسٹڈی سرکل کا انعقاد کیا گیا۔
سرکل میں کہا گیا کہ جموں کشمیر ایک پسماندہ نوآبادیاتی خطہ ہے جہاں عوام بنیادی حقوق سے محروم ذلت کی زندگی جینے پہ مجبور ہیں۔ حاکم اور محکوم کے درمیان تضاد دن بدن شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور موجودہ عوامی تحریک نے اِسی گہرے ہوتے تضاد سے جنم لیا۔ مہنگے آٹے اور بجلی کے خلاف شروع ہونے والی تحریک پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر میں بہت تیزی سے مقبول ہوئی اور ہر سو پھیل گئی۔
اسٹڈی سرکل میں شرکا کو بتایا گیا کہ سات دہائیوں میں پہلی بار مظلوم و محکوم عوام کو اپنی نجات کا راستہ دکھائی دیا۔ عوام کمیٹیوں کی شکل میں متحد ہونا شروع ہو گئے، دھرنوں، احتجاج، ریلیوں اور مارچ کی صورت میں اپنے غم و غصّے کا اظہار کیا اور بنیادی حقوق کا مطالبہ حکمرانوں کے سامنے رکھا۔
سرکل میں کہا گیا کہ حکمران طبقے نے عوام کو خاموش کرانے کا ہر حربہ استعمال کیا، صدارتی آرڈیننس جیسے کالے قانون کو عوام پر مسلط کیا لیکن عوام اسے جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے آگے بڑھے اور حکمرانوں کو گٹھنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔
مقرر نے کہا کہ لمبی جہدوجہد، وقت اور جان و مال کی قربانیوں کے بعد حکومت نے سستا آٹا، سستی بجلی اور دیگر مطالبات مان لیے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ابھی تک عوام کو بس نوٹیفکیشن پر نوٹیفکیشن ملا۔عملی اقدامات کے نام پہ پرانے چہرے کی جگہ نئے چہرے کو وزیراعظم بنا دیا گیا۔ لیکن چہرے بدلنے سے عوام کے مسائل حل نہیں ہو سکتے کیونکہ اس سسٹم میں اتنی سکت ہی نہیں کہ یہ عوام کے مسائل حل کر سکے۔
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ اب تحریک اگلے مرحلے میں داخل ہونے کا تقاضا کر رہی ہے جہاں حقِ حکمرانی اور حقِ ملکیت کا سوال سامنے کھڑا ہے۔
Share this content:


