جموں و کشمیر / کاشگل نیوز
پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ جموں و کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی نے ایک بار پھر احتجاجی تحریک کے ساتھ میدان میں آنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس سلسلے میں اپنے بیان میں عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان اور حکومتِ جموں و کشمیر کے پاس جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ طے شدہ معاہدے کی پاسداری کے لیے اب صرف چھ دن باقی رہ گئے ہیں۔
شوکت نواز میر کا کہنا تھا کہ معاہدے پر عملدرآمد میں تاخیر اور حالیہ فیصلے عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ مہاجر نشست پر موجود ایک ایم ایل اے کو چیئرمین کمیٹی نامزد کرنا معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے، جس پر ایکشن کمیٹی کے عہدیداران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
ادھر ایک اہم سیاسی شخصیت کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کو بھی عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ اسے موجودہ سیاسی صورتحال میں عوامی مطالبات سے روگردانی قرار دیا جا رہا ہے۔
عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا حکومتِ جموں و کشمیر مقررہ مدت کے اندر اس معاملے کا کوئی قابلِ قبول حل نکال پائے گی یا نہیں۔ اب تمام تر نظریں آنے والے ایک ہفتے پر مرکوز ہیں، جو آئندہ سیاسی صورتحال کا تعین کرے گا۔
Share this content:


