ستمبر2025 میں پاکستانی حکام نے بیجنگ میں چینی حکام سے ملاقات کی جس میں قراقرم ہای وے کی تھاکوٹ سے رائیکوٹ تک اپ گریڈ کے منصوبے کی منظوری دی گئ۔
اس کے تحت موجودہ سڑک کو چوڑا کیا جائے گا، کئی مقامات پر ٹنل بنائے جائیں گے اور فاصلے کو کم کرنے کے لئے سڑک کو ہموار اور سیدھا کیا جا ئے گا۔ چین اس منصوبے کی مد میں پچاسی فیصد خرچہ اٹھائے گا۔ منصوبے کے ذریعہ اس سڑک کو برے موسمی حالات میں بھی قابل استعمال رکھا کا سکے گا۔
بھارت کے اعتراض کے باوجود جو کہ گلگت بلتستان کو اپنا آئینی اٹوٹ حصہ ہونے کا دعوی کرتا ہے ، چین نے گلگت کے اندر CPEC کے منصوبوں کو ختم کرنے کی بجائے مزید بڑھاوا دیا ہے اور CPEC فیز II کے تحت معدنیاک کی تلاش، صنعتوں کے قیام اور زراعت کے بڑے منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے۔
یاد رہے کہ پچھلے چند سالوں سے کے کے ایچ صرف چین ہی نہیں بلکہ وسطی ایشیا کی ریاستیں اور روس بھی تجارت کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ گاڑیوں کی بے تحاشا آمدورفت سے گلیشئر کے پگھلاو میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے اور گلگت کی مقامی وادیوں میں درجہ حرارت اور فضائی آلودگی میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
چین قراقرم ہائی وے کو تجارت کے علاوہ فوجی مقاصد کے لئے بھی استعمال کرتا ہے۔ اس سڑک کے بغیر گوادر کی بندرگاہ کی کامیابی ممکن نہیں اور چین کو بحیرہ عرب پہنچنے کے لئے دو دن کی بجائے 27 دن کا سمندری سفر طے کرنا پڑے گا۔ بیجنگ میں کے کے ایچ کے معاہدے پر دستخط کے دوران پاکستانی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ241 کلومیٹر لمبی سڑک کی چوڑائی بڑھانے اور سیدھا کرنے کے لئے دو بلین امریکی ڈالر کا خرچہ آئے گا۔
چین اس وقت دیامر اور کوہستان میں دو میگا ڈیم بنا رہا ہے جس کے بعد کے کے ایچ کے بہت سے حصے قابل استعمال نہیں رہیں گے۔اس لئے اس کو جدید طریقوں سے دوبارہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس میٹنگ میں چین نے پاکستان نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ اب تک کے واجب الادا قرضوں کی ادائیگی کو تیز کیا جائے ۔
پاکستان کا قرضوں کا بوجھ 80 ٹریلین ڈالر روپے سے زیادہ ہے جو کہ قومی جی ڈی پی کا 70 فیصد سے بھی زیادہ بنتا ہے۔ چین نے مشورہ دیا کہ دیامر ڈیم میں پانی کی سطح اس وقت تک بلند نہ کی جائے جب تک کے کے ایچ کی نئے سرے سے تعمیر مکمل نہ ہو جائے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کے کے ایچ چین کے لئے فوجی اعتبار سے بہت ضروری ہے۔ اور پاکستان کے پاس قرضہ واپس کرنے کے لئے پیسے نہ ہونے کے باوجود وہ اس سڑک پر پیسہ لگانے سے رکے گا نہیں۔
حالیہ مہینوں میں کے کے ایچ پر گلگت کے مقامی لوگوں کے احتجاج کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں بند ہوگئ تھیں۔ مقامی لوگ سوست ڈرائی پورٹ کو بند کرکے پاکستانی حکومت کے خلاف آندولن کر رہے تھے۔ سوست ضلع ہنزہ میں چین سے تجارتی سامان پر محصولات جمع کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔
صحافی شبیر میر کے مطابق مقامی تاجر حکومت پاکستان کے یہاں ٹیکس اور محصولات جمع کرنے کے خلاف ہیں کیونکہ ان کے مطابق گلگت بلتستان پاکستان کا قانونی حصہ نہیں۔ چین چاہتا ہے کہ پاکستان گلگت کو اپنے آئین کے مطابق اپنا حصہ بنائے تاکہ اس کو مقامی لوگوں سے قانونی مسائل کی وجہ سے مخالفت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
چین کو خدشہ ہے کہ بھارت اور امریکہ چین کی گلگت میں موجودگی پر اعتراض کرتے ہیں جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ گلگت بلتستان پر یک طرفہ فیصلہ کرکے مسئلہ کشمیر کو خراب نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اس طرح گلگت پر بھارت کے دعوی کو تقویت ملے گی۔
سوست پورٹ کی محصولات کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اس سے2024 میں دس بلین روپے کما پایا ہے۔ لیکن یہ ساری کمائی اسلام آباد چلی جاتی ہے اور مقامی لوگوں پر استعمال نہیں ہوتی۔
تاجر اتحاد ایکشن کمیٹی کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل تک گلگت بلتستان کو ٹیکس اور محصولات سے مکمل استثنیٰ ملنی چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے کراچی معاہدے کے نام پر گلگت پر کشمیر سے عارضی کنٹرول حاصل کیا تھا لیکن پچھلے کئی دہائیوں سے وہ اس علاقے کے سیاہ و سفید کا مالک بن بیٹھا ہے۔
عوامی ورکر پارٹی کے آصف سخی کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے آئینی علاقوں سے باہر کی قوموں اور انکی زمینوں پر فیصلے کرنے اور ٹیکس لگانے کا قانونی اختیار نہیں رکھتا۔ اگست2025 میں جب مقامی لوگوں نے سوست کے مقام پر ناجائز ٹیکس کے خلاف احتجاج کیا تو فوج اور پولیس نے آنسو گیس استعمال کرکے کئی لوگوں کو زخمی کیا، بہت سوں کو گرفتار کرکے ان کے اوپر دہشت گردی اور غداری کے مقدمات بنائے ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مقابلے میں چین کے صوبے سنکیانگ میں اشیاء بہت سستی ہیں۔ پاکستان معاشی دہشت گردی کے تحت گلگت بلتستان کے لوگوں کو ختم کرنا چاہتا ہے یا پھر علاقے سے بھگانا چاہتا ہے تاکہ انکی زمینوں پر پاکستانی قبضہ کرلیں۔
انہیں نے کہا کہ سوست کی آمدنی مقامی لوگوں پر استعمال ہونی چاہیے تا کہ یہاں سکول اور ہسپتال بن سکیں۔
صحافی شبیر میر نے کہا کہ مقامی لوگ حکومت کی پالیسی سے نالاں ہیں اور شہری حقوق مانگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی لوگ سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ ان کی زمینوں پر باہر کے لوگوں کا قبضہ ناکام بنایا جا سکے۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے کہا کہ پاکستان اور چین کے کے ایچ پر خرچہ کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن اسکی آمدنی کو مقامی لوگوں پر استعمال کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اور اس استعماری طریقہ کار اور نظام کے خلاف مقامی لوگوں کو متحد ہونا پڑے گا اور معاشی دہشت گردی سے آزادی کے لئے اقوام متحدہ سے امداد لینی پڑے گی۔
عوامی ایکشن کمیٹی پاکستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے بارے توجہ دلاتی ہے جس کے مطابق گلگت بلتستان سے استعماری نظام کا خاتمہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک پاکستان کی افواج اور تمام شہری یہاں سے نکل نہ جائیں اور گلگت بلتستان دوبارہ سے کشمیر کے ساتھ جڑ نہ جائے تاکہ مقامی لوگ بھارت کے ساتھ اپنے سیاسی اور آئینی معاملات طے کر سکیں۔
***
Share this content:


