مظفرآباد / کاشگل نیوز
پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ جموں و کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر شوکت نواز میر نے کہا ہے کہ کسی بھی سیاستدان یا بیوروکریٹ کے چہتے افراد کی دوبارہ تقرری، وہ بھی سینیارٹی کو متاثر کرتے ہوئے، قطعی ناقابلِ برداشت عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں چوہدری بشارت حسین، سیکرٹری اسمبلی، کو سابق وزیراعظم انوارالحق کا لاڈلا ہونے کے باعث تعینات کیا گیا اور اب انہیں دوبارہ توسیع دی جا رہی ہے، جو کھلی میرٹ کی پامالی اور اقربا پروری کی بدترین مثال ہے۔
اپنے ایک بیان میں شوکت نواز میر کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی کارکردگی بھی سب کے سامنے ہے، جہاں پبلک سروس کمیشن (پی ایس سی) اور این ٹی ایس کی بحالی اور شفاف میرٹ پر بھرتیوں کے بجائے تھوک کے حساب سے ایڈہاک تقرریاں کی جا رہی ہیں۔
ان کے مطابق ان بھرتیوں میں زیادہ تر وہ افراد شامل ہیں جو کسی نہ کسی حکومتی شخصیت کے قریبی عزیز یا منظورِ نظر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ عمل نہ صرف میرٹ کے قتل کے مترادف ہے بلکہ جموں و کشمیر میں موجود سینئر اور تجربہ کار بیوروکریٹس کی مسلسل نظراندازی بھی کی جا رہی ہے۔
شوکت نواز میر کے مطابق افسوسناک امر یہ ہے کہ ریاست کے اندر اہل افسران کی موجودگی کے باوجود بیرونِ ریاست سے افراد لا کر اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تعینات کیا جا رہا ہے۔
شوکت نواز میر نے واضح کیا کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی تمام معاملات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مزید اس قسم کی تقرریوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جلد ہی کمیٹی میرٹ سے ہٹ کر کی گئی تمام تقرریوں، ایڈہاک بنیادوں پر بھرتی ہونے والے اور بیرونِ ریاست سے لائے گئے اعلیٰ سرکاری افسران کی تفصیلی فہرست جاری کرے گی، جبکہ ایسے افراد کی فراغت کے لیے عملی اقدامات بھی اٹھائے جائیں گے۔
Share this content:


