( آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں جل، جنگل اور زمین کی عوامی جدوجہد )
آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان جنوبی ایشیا کے وہ اہم خطے ہیں جو جغرافیائی، تاریخی لحاظ سے ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں علاقے قدرتی وسائل، خصوصاً جل، جنگل اور زمین سے مالا مال ہیں۔
صدیوں سے یہاں کے عوام نے انہی وسائل کے سہارے اپنی معیشت، ثقافت اور طرزِ زندگی کو قائم رکھا ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ مختلف پالیسیوں اور فیصلوں نے عوام کو اپنے ہی وسائل سے محروم کرنا شروع کر دیا۔
جل یعنی پانی اس پورے خطے کی شہ رگ ہے۔ گلگت بلتستان کے برف پوش گلیشیئرز اور آزاد جموں و کشمیر کے دریا نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے خطے کے لیے زندگی کا ذریعہ ہیں۔ ان آبی وسائل پر قائم پن بجلی منصوبے بجلی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، مگر اکثر ان منصوبوں میں مقامی آبادی کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ عوام اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ پانی کے وسائل پر پہلا حق مقامی لوگوں کو دیا جائے اور ہر منصوبے میں شفافیت اور عوامی مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔
جنگلات آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے قدرتی نظام کا بنیادی ستون ہیں۔ یہ جنگلات ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے اور قدرتی آفات سے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے غیر قانونی کٹائی اور ناقص نگرانی نے ان جنگلات کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتائج سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور ماحولیاتی بگاڑ کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ عوام جنگلات کے تحفظ اور پائیدار شجرکاری کے لیے بھرپور آواز اٹھا رہے ہیں۔
زمین اس خطے کے عوام کے لیے صرف جائیداد نہیں بلکہ شناخت، ثقافت اور وقار کی علامت ہے۔ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں زمین سے متعلق قوانین اور ترقیاتی منصوبوں نے عوام میں عدم تحفظ کو جنم دیا ہے۔ مقامی آبادی چاہتی ہے کہ زمین سے متعلق تمام فیصلے مقامی روایات، تاریخی حقوق اور عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جائیں، تاکہ کسی بھی قسم کے استحصال یا جبری بے دخلی سے بچا جا سکے۔
جل، جنگل اور زمین کی یہ جدوجہد اب محض احتجاج تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک شعوری عوامی تحریک کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ عوام اپنے قدرتی وسائل پر حقِ ملکیت، خودمختاری اور باوقار مستقبل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اسی جدوجہد کے نتیجے میں حکومت کی جانب سے اس تحریک کو دبانے کی کوششیں کی گئیں، جس کے باعث عوام کو جبر، دباؤ اور ناانصافی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود عوام کی تحریک میں زبردست شعور اور عزم پایا جاتا ہے، جو ان کے حقوق کی بحالی اور وسائل کے تحفظ کی جدوجہد کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا درست ہو گا کہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں جل، جنگل اور زمین کی عوامی جدوجہد دراصل انصاف، عوامی حقوق، خودمختاری اور پائیدار ترقی کی جدوجہد ہے۔ اگر عوام کو اپنے وسائل پر اختیار دیا جائے اور انہیں فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے تو یہ خطے آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
٭٭٭
Share this content:


