پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ جموں کشمیر کے علاقے باغ میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی باغ کے زیر اہتمام ضلعی کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس ارجہ کے مقام پر منعقد ہوا۔
اجلاس میں خواتین کمیٹی باغ کی ممبران سمیت وارڈ سطح کی عوامی ایکشن کمیٹیوں کے ممبران اور تاجر ممبران نے شرکت کی۔
مشاورتی اجلاس سے قبل ارجہ شہر میں حکمرانوں کی عوام کیساتھ مسلسل بدعہدی کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا گیا۔
اجلاس میں عوامی ایکشن کمیٹیوں کے ممبران ، تاجر وکلاء خواتین طلبہ نے حکمرانوں کی بد عہدی کو لیکر تحریک کے مستقبل پر اپنی تجاویز دیں۔
1۔ گزشتہ دو سال سے حکمرانوں نے مسلسل یہ ثابت کیا ہے کہ فراڈ دھوکے اور دھونس پر مبنی اس نظام میں گنجائش نہیں ہے کہ اس نظام کے اندر رہتے ہوئے عوامی مسائل حل ہو سکیں۔اس لیے اب ان مطالبات سے آگے بڑھ کر عوامی اقتدار اور استحصالی نظام کے خاتمے کی حتمی لڑائی لڑنا ہو گی۔02. حتمی اور نتیجہ خیز جہدوجہد کی تیاری کے لیے وارڈ ، یونین کونسل، تحصیل ، ضلع ، ڈوثزن سے مرکز تک ایک واضح اسٹریکچر کے تحت جمہوری طریقہ سے کمیٹیوں کی تشکیل کرنا ناگزیر ہے۔
3۔مکمل جمہوری عمل کو اپناتے ہوئے جمہوری رویوں کو فروغ دیتے ہوئے جمہوری معاشرے کے قیام کا سفر کرنا ہے۔
4۔ گماشتہ حکمرانوں کے خلاف حتمی جہدوجہد جمہور سے ہی ممکن ہے۔
5۔اجلاس میں حکمرانوں کی عہد شکنیوں اور وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کے عوامی مسائل اور تحریکی چارٹر آف ڈیمانڈ پر ہونے والے ایگریمنٹ پر جھوٹی پریس کانفرنس اور موقف کی شدید الفاظ میں مزاحمت کی گئی۔
6۔اجلاس میں عوامی راج اور اقتدار کے حصول کے لیے سیاسی پروگرام مرتب کرنے پر زور دیا گیا۔
7۔ اجلاس میں مشاوراتی عمل کو وارڈ کی سطح تک لیجانے پر زور دیا گیا نیز مستقبل میں تحریکی امکانات ، خدشات، سمعتوں کے تعین کو لیکر بحثوں اور مکالمے کے لیے سیمینارز، کانفرنسیز اور تربیتی نشستوں کے انعقاد پر زور دیا گیا جن میں عوام کو اپنی رائے کے اظہار کا مکمل موقع مل سکے۔
8۔ اجلاس میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے تمام اضلاع کی عوامی ایکشن کمیٹیوں کی مشاورت کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل کے اعلان پر بھر پور عمل درآمد کا یقین دلایا گیا۔
9۔ اجلاس میں یہ اعلان کیا گیا کہ مورخہ 9 جنوری بروز جمعہ عوامی ایکشن کمیٹی ہاڑی گہل اور انجمن تاجران ہاڑی گہل کے زیر اہتمام سیمینار کا انعقاد کیا جائے گا۔
سیمینار بعنوان۔”انتخابی اور مزاحمتی سیاست کا طبقاتی کردار”ہو گا۔
Share this content:


