ایران میں حکومتی تبدیلی کے گلگت بلتستان پر اثرات۔۔۔سینگے سیرنگ

ایران میں اس وقت لاکھوں لوگ حکومت میں تبدیلی کی مانگ کے ساتھ سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ ایران کے صدر نے حالیہ بیان میں اعتراف کیا کہ حکومت کرپشن کمر توڑ مہنگائی، بے روزگاری اور پانی کی عدم فراہمی کو قابو کرنے میں ناکام رہی ہے جس سے عوام کی دیکھ بھال میں کوتاہی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے غصے اور نفرت کا الزام مغرب پر نہیں لگایا جاسکتا۔ پانی کی عدم دستیابی سے شہروں میں رہنے والے لوگ اور گائوں کے کسان دونوں نالاں ہیں۔ ایران کو گیس اور تیل کی فروخت سے وافر مقدار میں آمدنی ہوتی ہے۔ مگر حکومت اس سے عوام کی فلاح و بہبود اور زندگیاں بہتر کرنے میں ناکام رہی ہے۔

عوام کا کہنا ہے کہ حکومت زر مبادلہ کا کثیر حصہ دنیا کے دوسرے ممالک میں اپنی خارجہ پالیسی کی کامیابی پر صرف کرتی ہے جس سے عوام کی بہبود کے لئے خاطر خواہ رقم نہیں بچتی۔ پچھلے چار پانچ دہائیوں میں ایران کی اسلامی حکومت نے اربوں ڈالر فلسطین ،یمن ،ایریٹریا ،سوڈان ،مصر ،افغانستان، پاکستان، بھارت ،بحرین کویت، عراق ،سوریا ،لبنان اور اسی طرح کے دوسرے ممالک میں صرف اس لئے صرف کیے تاکہ ان ملکوں میں اپنے برسرپیکار حمایتی گروہوں کے ذریعے مغربی ممالک کے اثر و رسوخ کو ختم کیا جاسکے۔

پاکستان کے مقبوضہ گلگت بلتستان میں بھی ایرانی حکومت نے مذہبی اور فلاحی تنظیموں پر کثیر رقم خرچ کی ہے جس سے سینکڑوں مساجد اور امام بارگاہیں آباد رہتی ہیں۔ اور فلاحی گروہ اس پیسے سے سکول اور کالج چلاتے ہیں۔ کچھ تنظیمیں گائوں میں صحت کے مراکز بھی چلا رہی ہیں۔

پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ ایرانی پیسے سے عسکری گروہ اسلحہ خریدتی ہیں جس سے ملک کے ان اضلاع میں امن خراب رہتا ہے جہاں شیعہ سنی فرقہ ورانہ کشیدگی موجود ہے۔ پاکستان نے بلوچستان پارا چنار اور کراچی سے سینکڑوں شیعہ گرفتار کیے ہیں جن پر الزام ہے کہ وہ ایرانی امداد سے تخریب کاری میں ملوث ہوئے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ ایران پاکستانی شیعوں کو زیارات کے بہانے ایران عراق سوریا اور لبنان لے جاتے ہیں جہاں ان کو عسکری تربیت دی جاتی ہے تاکہ پاکستان میں واپس آکر تخریب کاری کریں۔

پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے مطابق ایران نے بہت سے دہشت گرد تنظیموں کو پالا ہوا ہے جو پاکستانی مقبوضہ بلوچستان میں ایران سے آکر پاکستانی فوج پر حملے کرتے ہیں اور اس وجہ سے معیشت تباہ ہوتی ہے اور املاک کے تباہ ہونے اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

پاکستان کے مطابق ایران بلوچ آزادی پسند گروہوں پر بھی پیسہ لگاتی اور ان کو ایران کے اندر چھپنے کی جگہ فراہم کرتی ہے۔لیکن ان تمام الزامات اور رنجشوں کے باوجود یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستانی حکومت گلگت بلتستان کے اندر ایرانی اثر رسوخ سے خائف ہونے کی بجائے اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور اس کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہے۔

گلگت بلتستان میں CPEC کے نام سے چین نے کئی بلین ڈالر کا خرچہ کرکے بڑے ڈیم اور ہائی وے بنائے ہیں۔ وہ معدنیات کی کھدائی میں ملوث ہیں اور ان قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال سے پاکستان اور چین سینکڑوں بلین ڈالر کماتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے مقامی لوگ اس کو معاشی تخریب کاری کہتے ہیں کیونکہ اس سے ان کوفائد ہ نہیں ملتا۔

مقامی لوگ کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نیں۔ یہ جموں کشمیر کا حصہ ہے اور اس پر بھارت کا دعوی ہے۔ اس لئے پاکستان اور چین کو یہاں دخل اندازی نہیں کرنی چاہئیے۔ ایسے قانونی مسائل پاکستان اور چین کے لئے پریشانی کا باعث بنتے رہتے ہیں۔ یہاں پر دو پاتوں کا سمجھنا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ گلگت بلتستان کی ساٹھ فیصد سے زیادہ مقامی آبادی شیعہ ہے جو ایرانی اسلامی حکومت کی حامی ہے۔ دوسرا یہ کہ اس وقت دنیا میں چین ایران کا قریب ترین دوست اور حامی سمجھا جاتا ہے۔

چین نے ایران کے اندر کئی سینکڑوں بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور بغیر چین کی امداد اور سرپرستی کے ایران کی معیشت چل نہیں سکتی۔ چین بین الاقوامی طور پر بھی ایرانی حکومت کی سیاسی اور عسکری سرپرستی کرکے استحکام مہیا کرتا ہے۔ چنانچہ پاکستانی حکومت ایران کے اوپر دہشت گردوں کی امداد اور سرپرستی کا الزام لگانے کے باوجود گلگت بلتستان میں اسکی حمایت حاصل کرنے پر مجبور ہے۔

ایران گلگت بلتستان میں چین کے خلاف اٹھنے والے لاوے کو دبانے اور مقامی شیعہ آبادی کو چین کا حامی بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جس سے CPEC بغیر خلل کے چلتا رہتا ہے اور پاکستانی اور چینی معیشت کو استحکام ملتا ہے۔ لیکن ایران کے اندر حالیہ احتجاج سے ایک بڑا سیاسی بھونچال آچکا ہے جس کے بعد اکثر سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ سال 2026 ایران میں حکومتی تبدیلی کا سال بن سکتا ہے جس کے بعد ایران میں اسلامی طرز حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا۔

اس تبدیلی سے امکان ہے کہ مغرب حمایتی گروہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے۔ ایران میں مغرب کے حمایتی ایران کی خارجہ پالیسی میں مکمل تبدیلی چاہتے ہیں۔ جس کے حساب سے ایران کو اسلامی مدرسے کی امداد بند کرنی ہوگی، دوسرے ممالک میں حمایتی گروہوں کو پیسے کی فراوانی بند کرنی ہوگی، اور روس اور چین سے عسکری تعلقات بند کرنے ہونگے۔ باقی دنیا کی طرح اس سے گلگت بلتستان اور لداخ میں بھی معاشی اور سیاسی تبدیلی آئے گی۔

ایران کے اندر اسلامی مدارس بند ہونے سے لاکھوں طلبا اور اساتذہ امداد اور آمدنی سے محروم ہونگے۔ گلگت بلتستان میں مدارس سے منسلک منتظمین اور اہلکار بے روزگار ہونگے۔ ایرانی سکالرشپ سے پڑھنے والے لاکھوں طلباء گھروں میں بیٹھ جائیں گے۔

بہت سے پروگریسو شیعہ سوچتے ہیں کہ ایران کو گلگت بلتستان کے لوگوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چائیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایران کے عمل دخل میں کمی کے بعد گلگت بلتستان میں مذہبی شدت پسندی میں کمی آئے گی اور مقامی ثقافت اور زبانوں کو بچانے اور ترقی دینے میں آسانیاں پیدا ہونگی۔

ایران کی امداد بند ہونے کے بعد پاکستان میں بے روزگاری کی وجہ سے انارکی پھیلنے کا خدشہ موجود ہے۔ ایسے موقع پر دیکھنا ہوگا کہ پاکستان اور گلگت کے شیعہ ایران کی آنے والی مغرب پرور حکومت کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات رکھتی ہے۔ اچھے تعلقات ہونے کی صورت میں گلگت بلتستان میں مغرب کی حمایت میں اضافہ ہو سکتا ہے جس کو چین اپنے مفاد کے خلاف سمجھے گا۔

چین اپنی سرحد پر مغربی ممالک کا اثر بڑھتے نہیں دیکھنا چاہتا کیونکہ اس سے تبت اور سنکیانگ میں آزادی کی لہر میں شدت آسکتی ہے۔ اس کھینچا تانی اور کشمکش میں گلگت کے لوگ لسانی اور مذہبی گروہ میں تقسیم رہیں گے اور علاقے پر گہرے اثرات مرتب ہونگے۔ اس سے ہوسکتا ہے کہ CPEC کے خلاف آندولن میں اضافہ ہو۔

یہ عوامل اشارہ دیتے ہیں کہ آنے والے سالوں میں پاکستان کے لئے چین اور معرب دونوں سے تعلقات کے توازن کو قائم رکھنے کے لئے انتھک محنت کرنی پڑے گی۔

*سینگے سیرنگ امریکہ میں مقیم انسٹی ٹیوٹ فار گلگت بلتستان اسٹڈیز کے بانی ہیں۔ وہ ایک آزاد تجزیہ نگار ہیں۔

٭٭٭

Share this content: