معاہدۂ کراچی اور ایکٹ 74ء !۔۔۔ خواجہ کبیر احمد

ہم پہلے ہی خواجہ کبیر احمد کے تحریر کردہ مضمون "کراچی معاہدہ اور ایکٹ 74” کی ایک قسط اپنے قارئین کی نذر کر چکے ہیں، لیکن یہ مکمل قسطوں کا مجموعہ ہے۔ اب ہم اسے مکمل طور پر اپنے قارئین کی معلومات اور دلچسپی کے لیے پیش کر رہے ہیں، تاکہ یہ بحث کا ایک در وا کر سکے۔ ایڈیٹر

قانونی جمود سے ریاستی بلوغت تک

معاہدۂ کراچی اور ایکٹ 1974ء کو عموماً محض تاریخی یا آئینی دستاویزات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں پاکستان کے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر کے عوام کی سیاسی حیثیت، اظہارِ رائے اور اجتماعی اختیار پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کرتے رہے ہیں۔ یہ معاملہ صرف کسی قانون کے خاتمے کا نہیں بلکہ ایک ایسے آئینی جمود کا ہے جس نے ریاستی شعور کو محدود اور عوامی آواز کو مشروط بنا دیا ہے۔

قانونی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو معاہدۂ کراچی ایک غیر منتخب، عبوری اور غیر نمائندہ معاہدہ تھا، جو ایک مخصوص سیاسی دباؤ اور غیر یقینی حالات میں طے پایا۔ اسے نا تو عوامی تائید حاصل تھی اور نا ہی کسی باقاعدہ آئینی عمل سے گزارا گیا۔ اس کے باوجود، اسی معاہدے کی بنیاد پرپاکستان کے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر کے اہم ترین اختیارات دفاع، خارجہ امور اور مسئلہ کشمیر پر بین الاقوامی مؤقف، خطے کے عوام سے عملاً سلب کر لیے گئے۔ نتیجتاً آج نا خطے کے حکمران خود اس مسئلے پر آزادانہ بات کرنے کے مجاز ہیں اور نا عوام کو اس حوالے سے مکمل سیاسی حق حاصل ہے۔

ایکٹ 1974ء، جسے ایک آئینی فریم ورک کا نام دیا جاتا ہے، دراصل ایک محدود اور مشروط قانونی بندوبست ہے۔ اس ایکٹ کے تحت ووٹ کا حق ایک بنیادی انسانی حق کے بجائے ایک مخصوص سیاسی مؤقف سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ اس خطے کی ایک بڑی آبادی، جو آزادی یا متبادل سیاسی مستقبل کی حامی ہے، عملی طور پر سیاسی عمل سے خارج ہے۔ یوں قانون عوامی رائے کے اظہار کا محافظ بننے کے بجائے سیاسی خاموشی اور زبان بندی کو قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے، جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں سے براہِ راست متصادم ہے۔

یہ سوال ناگزیر ہو چکا ہے کہ کیا ایسے معاہدات اور قوانین، جو عوام کو اپنے ہی مستقبل پر بات کرنے سے روکیں، کسی بھی اخلاقی یا آئینی جواز کے حامل ہو سکتے ہیں؟ اگر قانون خود اظہارِ رائے کی نفی کرے تو وہ انصاف نہیں بلکہ مہذب جبر کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

تاہم، اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ معاہدۂ کراچی اور ایکٹ 74ء کے گرد ایک مکمل انتظامی اور علاقائی ڈھانچہ موجود ہے۔ ادارے، مالی وسائل، اختیارات اور قانونی تشریحات سب کسی نا کسی صورت انہی دستاویزات سے وابستہ ہیں۔ اس لیے ان کا خاتمہ محض ایک اعلان یا جذباتی مطالبے سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے ایک واضح، ذمہ دار اور مرحلہ وار قانونی فریم ورک ناگزیر ہے۔

سب سے پہلے معاہدۂ کراچی اور ایکٹ 74ء کا جامع قانونی و آئینی آڈٹ ہونا چاہیے، تاکہ ان شقوں کی نشاندہی کی جا سکے جو عوامی حقوق، حقِ خود ارادیت اور بین الاقوامی قانون سے متصادم ہیں۔ اس عمل میں آزاد آئینی ماہرین، بار کونسلز، انسانی حقوق کے ادارے اور عوامی نمائندے شامل ہونا چاہییں، تاکہ تجزیہ حکومتی بیانیے تک محدود نہ رہے۔

اس کے بعد ایک باضابطہ آئینی مکالمے کا آغاز ضروری ہے، جس میں اس خطے کی تمام سیاسی و فکری آوازوں کو اظہار کا حق دیا جائے۔ آزادی، خودمختاری یا کسی بھی سیاسی مؤقف کو جرم یا غداری کے دائرے سے نکالے بغیر کوئی بھی آئینی اصلاح معتبر نہیں ہو سکتی۔ یہ مکالمہ تصادم کے بجائے اجتماعی شعور کی تشکیل کا ذریعہ بننا چاہیے۔

خاتمے کے عمل میں ایک عبوری آئینی فریم ورک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسا فریم ورک جو سیاسی اظہار پر عائد پابندیوں کا خاتمہ کرے، ووٹ کے حق کو غیر مشروط انسانی حق تسلیم کرے اور انتظامی و مالی اختیارات کی واضح منتقلی کو یقینی بنائے، تاکہ آئینی خلا پیدا نہ ہو۔ یہ عبوری بندوبست مستقل آئینی حل کی طرف ایک سنجیدہ قدم ہو سکتا ہے۔

اس کے بعد قانون ساز اداروں کے ذریعے ایکٹ 74ء کی تنسیخ اور معاہدۂ کراچی سے اخذ شدہ اختیارات کی واپسی کے لیے باضابطہ قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔ ساتھ ہی ایک آئین ساز اسمبلی یا خصوصی آئینی کنونشن کے ذریعے ایک نئے، جامع اور عوامی نمائندہ آئینی ڈھانچے کی تشکیل ہونی چاہیے، جسے عدالتی تحفظ اور آئینی ضمانت حاصل ہو۔

چونکہ مسئلہ کشمیر ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے، اس لیے ان اصلاحات کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے مطابق ایک داخلی آئینی عمل کے طور پر پیش کرنا ہوگا۔ آخر میں، کسی بھی نئے آئینی بندوبست کی عوامی توثیق ضروری ہے، تاکہ مستقبل میں کوئی معاہدہ یا قانون عوام کی رضا کے بغیر مسلط نہ کیا جا سکے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ معاہدۂ کراچی اور ایکٹ 74ء باقی رہیں یا ختم ہوں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ریاست اپنے عوام کو بولنے، سوچنے اور فیصلہ کرنے کا حق دیتی ہے یا نہیں۔ قومیں ماضی کو مٹانے سے نہیں بلکہ ماضی کو درست کرنے سے آگے بڑھتی ہیں۔ اگر یہ عمل سنجیدگی، شفافیت اور قانونی دیانت کے ساتھ انجام دیا جائے تو معاہدۂ کراچی اور ایکٹ 74ء کا خاتمہ انتشار نہیں بلکہ ریاستی بلوغت، عوامی خودمختاری اور سیاسی زبان بندی کے خاتمے کا آغاز بن سکتا ہے۔

دلیل کے بعد عمل کا مرحلہ

اس سے قبل اوپر یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ معاہدۂ کراچی اور ایکٹ 74ء محض تاریخی دستاویزات نہیں بلکہ وہ قانونی زنجیریں ہیں جنہوں نے پاکستان کے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر کے عوام، ان کے منتخب نمائندوں اور حتیٰ کہ حکمران طبقے کو بھی سیاسی طور پر محدود کر رکھا ہے۔ یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ ان دستاویزات کی موجودگی میں نا ریاستی عوام کو مسئلہ کشمیر پر بین الاقوامی سطح پر بات کرنے کا اختیار حاصل ہے اور نا ہی آزادی یا متبادل سیاسی مستقبل کے خواہش مند ایک بڑے طبقے کو غیر مشروط ووٹ کا حق میسر ہے۔

اب سوال یہ نہیں رہا کہ مسئلہ کیا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اگلا قدم کیا ہونا چاہیے؟
کسی بھی سنجیدہ آئینی تبدیلی کے لیے سب سے پہلے مطالبے کو جذباتی نعروں سے نکال کر تحریری اور قانونی شکل دینا ضروری ہوتا ہے۔ معاہدۂ کراچی اور ایکٹ 74ء کے خاتمے کا مطالبہ بھی اسی اصول کا متقاضی ہے۔ ایک واضح، مختصر اور آئینی زبان میں مرتب “چارٹر آف آئینی مطالبات” وہ پہلا قدم ہو سکتا ہے جو اس بحث کو محض رائے سے نکال کر ریاستی ایجنڈا بنائے۔ اس چارٹر میں صاف الفاظ میں یہ درج ہونا چاہیے کہ ایکٹ 74ء کی وہ دفعات جو اظہارِ رائے، سیاسی شرکت اور ووٹ کے حق کو مشروط کرتی ہیں، ناقابلِ قبول ہیں اور ان کی فوری تنسیخ ناگزیر ہے۔

اس کے ساتھ ہی قانونی محاذ کو نظر انداز کرنا ایک سنگین غلطی ہوگی۔ اگر ایکٹ 74ء واقعی بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہے، تو پھر اس کا جائزہ عدالت کے سامنے آنا چاہیے۔ آئینی درخواست کے ذریعے یہ سوال اٹھانا کہ آیا کوئی قانون عوام کو اپنے ہی مستقبل پر بات کرنے سے روک سکتا ہے یا نہیں، محض قانونی نہیں بلکہ اخلاقی دباؤ بھی پیدا کرتا ہے۔ عدالتی عمل فوری نتیجہ دے یا نا دے، مگر یہ ریاستی بیانیے کو چیلنج ضرور کرتا ہے۔
اگلا اہم مرحلہ منتخب اداروں کا ہے۔ قانون ساز اسمبلی میں ایکٹ 74ء اور معاہدۂ کراچی پر نظرِ ثانی کی قرارداد محض ایک علامتی قدم نہیں ہوگی بلکہ یہ ایک سیاسی کسوٹی ثابت ہو سکتی ہے۔ ایسے وقت میں خاموشی بھی مؤقف بن جاتی ہے۔ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے نمائندے آئینی جمود کے ساتھ کھڑے ہیں یا عوامی حقِ انتخاب کے ساتھ۔

تاہم، نہ عدالت اور نہ اسمبلی، کوئی بھی فورم عوامی شعور کے بغیر مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس بحث کو اشرافیہ کے حلقوں سے نکال کر عوامی سطح پر لانا ناگزیر ہے۔ یہ واضح کرنا ہوگا کہ یہ جدوجہد اقتدار یا حکومت گرانے کی نہیں بلکہ ووٹ، آواز اور شناخت کی جدوجہد ہے۔ جب عام شہری یہ سمجھے گا کہ ایکٹ 74ء اس کی سیاسی زبان بندی کا قانونی ہتھیار ہے، تب ہی دباؤ حقیقی معنوں میں پیدا ہوگا۔

چونکہ مسئلہ کشمیر ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے، اس لیے اس آئینی جمود کے خاتمے کی بحث کو عالمی تناظر سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ معاہدۂ کراچی اور ایکٹ 74ء کی موجودگی میں ریاستی عوام اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق بھی آزادانہ سیاسی اظہار سے محروم ہیں۔ اس پہلو کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے سامنے ایک داخلی اصلاحی مسئلے کے طور پر پیش کرنا نہ صرف ممکن ہے بلکہ ضروری بھی۔

یہاں یہ بات سمجھنا ہوگی کہ معاہدۂ کراچی اور ایکٹ 74ء کا خاتمہ کسی فوری انقلابی اعلان سے نہیں ہوگا۔ یہ ایک مرحلہ وار، قانونی اور آئینی عمل ہے۔ مگر ہر عمل کی ابتدا نیت اور سمت کے تعین سے ہوتی ہے۔ اگر ریاست واقعی خود کو بالغ، پُراعتماد اور عوام دوست سمجھتی ہے تو اسے ان معاہدات کو تقدس کا لبادہ اوڑھانے کے بجائے عوامی احتساب کے دائرے میں لانا ہوگا۔

اصل سوال اب بھی وہی ہے کے کیا قانون عوام کے لیے ہے، یا عوام کو قانون کے لیے خاموش رکھا جائے گا؟
اگر اس سوال کا جواب دیانت داری سے دے دیا گیا، تو معاہدۂ کراچی اور ایکٹ 74ء کا خاتمہ محض ایک قانونی کارروائی نہیں رہے گا بلکہ ریاستی شعور کی نئی تشکیل کا آغاز بن جائے گا۔اور یہ بحث اگر رک گئی تو یہ بھی ماضی کی طرح ایک ادھورا باب بن جائے گی۔

خاتمے کے بعد کا آئینی منظرنامہ

جب کسی معاشرے میں برسوں سے قائم ایک آئینی جمود کو چیلنج کیا جائے تو سب سے بڑا خوف یہ پیدا کیا جاتا ہے کہ “اس کے بعد کیا ہوگا؟” معاہدۂ کراچی اور ایکٹ 74ء کے معاملے میں بھی یہی خدشہ بار بار سامنے لایا جاتا ہے کہ اگر یہ قانونی بندوبست ختم ہو گیا تو ریاستی نظم بکھر جائے گا، ادارے مفلوج ہو جائیں گے اور ایک خطرناک خلا جنم لے گا۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ اصل خطرہ تبدیلی نہیں، بلکہ غیر فطری جمود ہوتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ معاہدۂ کراچی اور ایکٹ 74ء نے پاکستان کے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر کو ایک ایسی نیم آئینی کیفیت میں رکھا ہوا ہے جہاں نہ مکمل آزادی ہے اور نہ ہی مکمل نمائندگی۔ خاتمے کے بعد پہلا اور بنیادی نتیجہ یہ ہوگا کہ خطے کی سیاست خوف اور مشروط وفاداری سے نکل کر اصول اور عوامی رائے کے دائرے میں داخل ہو گی۔ حکمران پہلی بار اس پوزیشن میں ہوں گے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر اپنے عوام کی ترجمانی کر سکیں، نہ کہ صرف ایک طے شدہ بیانیے کے ترجمان بنے رہیں۔

آئینی سطح پر سب سے اہم تبدیلی یہ ہوگی کہ ووٹ کا حق، جو اس وقت ایک نظریاتی چھلنی سے گزار کر دیا جاتا ہے، ایک غیر مشروط شہری حق کی حیثیت اختیار کرے گا۔ وہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد، جو محض اپنے سیاسی مؤقف کی بنیاد پر انتخابی عمل سے باہر رکھے گئے، ریاستی فیصلوں میں شریک ہو سکیں گے۔ یہ شمولیت کسی کمزوری کی نہیں بلکہ سیاسی اعتماد کی علامت ہوگی۔

ادارہ جاتی طور پر یہ خدشہ بھی بے بنیاد ہے کہ اختیارات کی واپسی سے نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ دنیا کی ہر آئینی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب اختیارات واضح، تحریری اور عوامی نگرانی کے تحت منتقل ہوتے ہیں تو ادارے کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوتے ہیں۔ عبوری آئینی فریم ورک کے ذریعے خارجہ مؤقف، سیاسی سرگرمی اور انتظامی اختیارات کی واضح حد بندی ریاستی نظم کو مزید شفاف بنا سکتی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر اس تبدیلی کے اثرات اور بھی اہم ہوں گے۔ معاہدۂ کراچی اور ایکٹ 74ء کے خاتمے کے بعد ریاست جموں کشمیر کے عوام پہلی بار یہ مؤقف اخلاقی اعتماد کے ساتھ اختیار کر سکیں گے کہ وہ واقعی اپنی سیاسی خواہشات کے اظہار میں آزاد ہیں۔ یہ بات اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی انسانی حقوق کے بیانیے سے ہم آہنگ ہوگی، نہ کہ اس کے متصادم۔ یوں مسئلہ کشمیر کمزور نہیں بلکہ زیادہ معتبر ہو گا۔

یہاں یہ نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ عمل کسی ریاست یا فریق کے خلاف اعلانِ بغاوت نہیں، بلکہ ایک اندرونی آئینی تطہیر ہے۔ جو ریاستیں اپنے اندر اختلاف کو برداشت کرنا سیکھ لیتی ہیں، وہی بیرونی دنیا میں مضبوط مؤقف کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں۔ زبان بندی سے اتحاد پیدا نہیں ہوتا، بلکہ اعتماد سے ہوتا ہے۔

اصل سوال اب بھی وہی ہے کے کیا ریاست اپنے عوام کو بالغ سیاسی شہری ماننے کے لیے تیار ہے؟
یا وہ ہمیشہ عبوری معاہدوں اور مشروط قوانین کے سہارے وقت گزارتے رہنا چاہتی ہے؟

اگر معاہدۂ کراچی اور ایکٹ 74ء کا خاتمہ شعوری، قانونی اور مرحلہ وار انداز میں کیا جاتا ہے تو یہ کسی بحران کی ابتدا نہیں ہوگی بلکہ ریاستی بلوغت کا اعلان ہوگا۔ یہ وہ لمحہ ہوگا جب قانون عوام کے پیچھے نہیں، عوام کے ساتھ کھڑا ہوگا۔اور جب ایسا ہوتا ہے تو تاریخ صرف بدلتی نہیں،سمجھ میں بھی آنے لگتی ہے۔

اسٹیبلشمنٹ کے ممکنہ اعتراضات

جب بھی معاہدۂ کراچی اور ایکٹ 74ء کے خاتمے کی بات کی جاتی ہے تو سب سے پہلے ریاستی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے چند روایتی اعتراضات سامنے آتے ہیں۔ ان اعتراضات کا مقصد اکثر بحث کو آگے بڑھانے کے بجائے اسے خوف، غیر یقینی اور انتشار کے خدشات میں الجھانا ہوتا ہے۔ مگر آئینی دیانت کا تقاضا ہے کہ ان اعتراضات کا قانونی اور منطقی جواب دیا جائے۔

پہلا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ معاہدۂ کراچی اور ایکٹ 74ء کے بغیر یہاں کا نظم ٹوٹ جائے گا۔ یہ دلیل بظاہر مضبوط مگر حقیقتاً کمزور ہے۔ دنیا کی کوئی بھی ریاست یا کسی بھی ریاست کا کوئی بھی مخصوص حصہ کسی ایک معاہدے یا قانون پر نہیں چلتا، بلکہ اداروں، عوامی اعتماد اور آئینی تسلسل پر قائم ہوتا ہے۔ اگر ایک قانون عوامی حقوق سے متصادم ہو تو اس کا برقرار رہنا نظم نہیں بلکہ جمود کو تحفظ دینا ہوتا ہے۔

دوسرا اعتراض یہ ہے کہ ان قوانین کے خاتمے سے مسئلہ کشمیر کمزور ہو جائے گا۔ قانونی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جب ایک متنازع خطے کے عوام خود بولنے کے حق سے محروم ہوں تو اس کا مقدمہ عالمی سطح پر کمزور پڑتا ہے۔ آزاد سیاسی اظہار مسئلہ کشمیر کو نقصان نہیں بلکہ اخلاقی طاقت فراہم کرتا ہے۔

تیسرا اعتراض سیکیورٹی کا ہوتا ہے۔ مگر بین الاقوامی قانون واضح ہے کہ سیکیورٹی کی آڑ میں بنیادی انسانی حقوق معطل نہیں کیے جا سکتے۔ اظہارِ رائے اور سیاسی شرکت کسی بھی پائیدار سیکیورٹی کا بنیادی ستون ہوتے ہیں، نہ کہ خطرہ۔

اصل مسئلہ سیکیورٹی یا نظم نہیں بلکہ سیاسی کنٹرول ہے۔ اور قانون کا کام کنٹرول کو دوام دینا نہیں بلکہ عوامی حق کی ضمانت دینا ہے۔دوسری جانب ایکٹ 74ء اور معائدۀ کراچی کا باتدریج خاتمہ ایک مربوط عوامی تحریک اور آئینی جدوجہد کا متقاضی ہے

ریاست جموں کشمیر کی تاریخ میں عوامی تحریکیں کوئی نئی بات نہیں، مگر مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب تحریک اور آئینی جدوجہد کو ایک دوسرے کی ضد بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر عوامی تحریک آئینی شعور سے خالی ہو تو وہ وقتی جوش بن کر رہ جاتی ہے، اور اگر آئینی جدوجہد عوامی دباؤ سے محروم ہو تو وہ فائلوں میں دفن ہو جاتی ہے۔

معاہدۂ کراچی اور ایکٹ 74ء کے خاتمے کی جدوجہد اسی توازن کی متقاضی ہے۔ عوامی تحریک کا کردار یہ ہونا چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو گلی، محلے، یونیورسٹی اور عدالت تک لے جائے۔ عوام کو یہ باور کرایا جائے کہ یہ بحث حکومت گرانے یا اقتدار حاصل کرنے کی نہیں بلکہ ووٹ کے حق اور زبان کے حق کی ہے۔

اسی طرح آئینی جدوجہد کو عوامی تحریک سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اسے اپنی اخلاقی طاقت سمجھنا چاہیے۔ عدالت میں دائر کی جانے والی ہر آئینی درخواست دراصل سڑک پر کھڑے عام شہری کے سوال کی قانونی شکل ہوتی ہے۔جب تحریک نعرے سے نکل کر دلیل بن جائے اور دلیل قانون میں ڈھل جائے، تب ہی تبدیلی آتی ہے۔ بصورت دیگر یا تو تحریک دب جاتی ہے یا قانون بے روح ہو جاتا ہے۔

کیا معاہدۂ کراچی اور ایکٹ 74ء کا خاتمہ واقعی ممکن ہے ؟

یہ سب سے اہم اور سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال ہے۔ کیا واقعی یہ ممکن ہے؟ یا یہ سب محض ایک رومانوی بحث ہے؟ تاریخ اور قانون دونوں کا جواب واضح ہے ہاں، یہ ممکن ہے مگر آسان نہیں۔
دنیا میں کوئی آئینی بندوبست ابدی نہیں ہوتا، خاص طور پر وہ جو عوامی رضامندی کے بغیر وجود میں آیا ہو۔ معاہدۂ کراچی ایک عبوری سیاسی انتظام تھا، اور ایکٹ 74ء ایک مخصوص دور کی پیداوار۔ دونوں کو ناقابلِ تغیر مان لینا قانون نہیں بلکہ تقدیس ہے، اور تقدیس آئینی ارتقا کی دشمن ہوتی ہے۔

ممکن ہونے کے لیے تین شرائط ضروری ہیں۔
اول، مطالبہ واضح ہو، خاتمہ یا مکمل تشکیلِ نو۔
دوم، راستہ آئینی ہو ، عدالت، اسمبلی اور عوام تینوں شامل ہوں۔
سوم، بیانیہ ذمہ دار ہو ، خوف نہیں، اعتماد پیدا کرے۔
اگر یہ تینوں عناصر جمع ہو جائیں تو کوئی طاقت آئینی تبدیلی کو ہمیشہ کے لیے روک نہیں سکتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو ریاستیں اپنے قوانین پر نظرِ ثانی کی جرات رکھتی ہیں، وہی دیرپا ثابت ہوتی ہیں۔اصل سوال یہ نہیں کہ یہ ممکن ہے یا نہیں،

اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس کے لیے سنجیدہ بھی ہیں یا نہیں؟

٭٭٭

Share this content: