مظفرآباد/کاشگل نیوز
پاکستان زیر انتظام جموں کشمیر محکمہ برقیات کے ورک چارج اسسٹنٹ لائن مین ملازمین نے مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں 13 جنوری سے دفتر چیف انجینیئر برقیات کے باہر تادمِ مرگ بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس اعلان کا اظہار ورک چارج ملازمین سید عابد حسین شاہ، محمد حنیف، ظہیر احمد، محبوب اختر کیانی، وحید مقصود، فہیم حسین شاہ، محمد شیر زمان، ذاکر شفیق و دیگر نے مرکزی ایوانِ صحافت مظفرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ملازمین نے بتایا کہ وہ گزشتہ 25 برسوں سے محکمہ برقیات میں ورک چارج بنیادوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ دن ہو یا رات، شدید سردی ہو یا موسلا دھار بارش، ہر مشکل اور جان لیوا حالات میں افسرانِ بالا کے احکامات پر بلا خوف و خطر اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر فرائض سرانجام دیتے رہے، مگر اس طویل سروس کے باوجود انہیں آج تک مستقل نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت آزاد کشمیر کے قواعد و ضوابط کے مطابق محکمہ برقیات میں ورک چارج ملازمین کے لیے 75 فیصد کوٹہ مختص ہے، تاہم اس واضح پالیسی کے باوجود ورک چارج ملازمین کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ 2019 میں محکمہ کی جانب سے جاری ہونے والے اشتہارات میں بھی ورک چارج کوٹہ شامل نہیں کیا گیا، جس پر مجبوراً ملازمین نے عدالت عالیہ آزاد کشمیر سے رجوع کیا۔
ملازمین کے مطابق 2020 میں عدالت عالیہ آزاد کشمیر نے واضح فیصلہ دیا کہ ورک چارج ملازمین کو 75 فیصد کوٹے کے تحت مستقل کیا جائے اور 90 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، مگر عدالتی حکم کے باوجود آج تک اس پر عمل نہیں کیا گیا، جو کہ کھلی توہینِ عدالت کے مترادف ہے۔
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ محکمہ برقیات میں ایک باقاعدہ مینٹیننس ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے مظفرآباد شہر میں ٹرانسفارمرز کی مینٹیننس، لائن شفٹنگ، بقایاجات کی ریکوری اور دیگر تکنیکی امور سرانجام دیے۔ اس کے علاوہ میٹر تنصیب جیسے اہم اہداف بھی دیے گئے، جنہیں مقررہ مدت میں مکمل کیا گیا، مگر مستقل کرنے کے وعدے محض “لالی پاپ” ثابت ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ 2022 میں ہڑتال کے دوران افسرانِ بالا کی درخواست پر توہینِ عدالت کی درخواست بھی واپس لی گئی اور تحریری یقین دہانیاں بھی دی گئیں، مگر نو ماہ گزرنے کے باوجود نہ عدالتی فیصلے پر عمل ہوا اور نہ ہی ملازمین کو تنخواہیں ادا کی گئیں۔
ملازمین نے انکشاف کیا کہ محکمہ برقیات میں اس وقت صرف 12 ورک چارج ملازمین موجود ہیں، جبکہ ہزاروں صارفین کے لیے عملی، فیلڈ اور خطرناک تکنیکی کام انہی کے ذمے ہیں۔ یہ کام محض دفتری تعلیم سے نہیں بلکہ عملی تجربے اور فیلڈ مہارت سے انجام پاتا ہے، جس کا اعتراف خود سرکاری رولز میں بھی موجود ہے۔
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ بیشتر ملازمین کی عمر 50 سے 52 سال کے قریب پہنچ چکی ہے۔ 25 سے 30 سالہ سروس کے باوجود انہیں محض 15 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے، وہ بھی بروقت نہیں۔ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث گھریلو اخراجات اور بچوں کی مہنگی تعلیم برداشت کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔
ورک چارج ملازمین نے وزیراعظم آزاد کشمیر، چیف جسٹس آزاد کشمیر، چیف جسٹس ہائی کورٹ اور متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ کیا کہ عدالتی فیصلوں اور سرکاری قواعد کے مطابق انہیں فوری طور پر مستقل کیا جائے، بصورت دیگر وہ 13 جنوری سے اپنے بیوی بچوں سمیت تادمِ مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے پر مجبور ہوں گے۔
ملازمین نے واضح کیا کہ وہ اپنا جائز حق حاصل کر کے ہی احتجاج ختم کریں گے، بصورت دیگر کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہو گی۔
Share this content:


