مظفرآباد/کاشگل نیوز
جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (JKNSF) کا پچیسواں مرکزی کنونشن، جو 31 جنوری 2026 کو کوٹلی میں منعقد ہو رہا ہے، قومی شعور، طلبہ حقوق اور جمہوری جدوجہد کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدارتی امیدوار ڈاکٹر نجیب اللہ نے مرکزی ایوان صحافت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ڈاکٹر نجیب اللہ نے کہا کہ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن گزشتہ چھ دہائیوں سے طلبہ کے حقوق، تعلیمی مسائل اور قومی تشخص کے تحفظ کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ تنظیم کا پچیسواں مرکزی کنونشن اسی طویل جدوجہد کا تسلسل ہے، جو اس خطے میں جاری طلبہ اور عوامی تحریکوں کو ایک نئی سمت اور حوصلہ فراہم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کنونشن نوجوانوں میں سیاسی شعور اجاگر کرنے اور منظم جدوجہد کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ 2011 میں اس وقت کی حکومت کے دور میں سٹوڈنٹس یونین کی بحالی ایک خوش آئند اقدام تھا، تاہم بدقسمتی سے تاحال طلبہ یونین کے انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں بنایا جا سکا۔ موجودہ حکومت نے بھی اس حوالے سے کمیٹی قائم کر رکھی ہے، مگر عملی اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ طلبہ یونین کے انتخابات نہ ہونے کے باعث تعلیمی اداروں میں جمہوری روایات کمزور اور موروثی سیاست کو فروغ ملا ہے۔
ڈاکٹر نجیب اللہ نے کہا کہ ان مشکل حالات کے باوجود جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نے طلبہ سیاست کو زندہ رکھا اور تعلیمی اداروں کے اندر اور باہر نوجوانوں کی فکری و سیاسی تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ تنظیم اوپن میرٹ کی مکمل حمایت کرتی ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ریاست کے تمام علاقوں میں قائم سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں یکساں نصاب اور نظامِ تعلیم نافذ کیا جائے تاکہ تمام طلبہ کو برابر کے مواقع میسر آ سکیں۔ بصورت دیگر پسماندہ اضلاع کے طلبہ تعلیمی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں، جس کی واضح مثال حالیہ میڈیکل کالجز کی میرٹ لسٹس ہیں۔
انہوں نے مہاجرین کی نشستوں اور کوٹہ سسٹم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو انصاف اور برابری کی بنیاد پر حل کیا جانا چاہیے تاکہ مقامی وسائل اور شہریوں کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر نجیب اللہ نے کہا کہ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن اس خطے میں جاری عوامی تحریک کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور ابتدا سے اس میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ذاتی مشکلات اور قربانیوں کے باوجود تنظیم نے عوامی مفاد اور اجتماعی جدوجہد کا راستہ نہیں چھوڑا۔ حکومت اور عوامی نمائندہ فورمز کے درمیان طے پانے والے معاہدوں پر مکمل عملدرآمد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے مسائل کا حل شفافیت، دیانت داری اور جمہوری اقدار کے فروغ میں ہی مضمر ہے۔ نوجوانوں کو منظم، باخبر اور بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ خطے میں ایک مضبوط، باوقار اور عوام دوست نظام کو فروغ دیا جا سکے۔
Share this content:


