( پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک ریٹائرڈ کلرک کی وزراء اور ڈپٹی کمشنرز پر حکمرانی )
اچھی حکمرانی کے دعوؤں کے ساتھ برسرِاقتدار آنے والی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومت کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انکشاف ہوا کہ ایک ریٹائرڈ ہیڈ کلرک، مبینہ طور پر موجودہ وزراء، ڈپٹی کمشنرز اور فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ (PPH) ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ افسران سے بھی زیادہ اثر و رسوخ رکھتا ہے۔
مبصرین کے مطابق اس غیر معمولی طاقت کی بنیادی وجہ اس ریٹائرڈ افسر کے وزیرِاعظم کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ یہ واقعہ ایک تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔قبیلہ جاتی سیاست کے زیرِ اثر نظامِ حکمرانی میں حقیقی اصلاحات کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے، کیونکہ دہائیوں سے طاقتور قبائل سے تعلق رکھنے والے سیاستدان ہی اصل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
2011 میں، جب پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں برسرِ اقتدار آئی، راجہ ازیر محکمہ برقیات میں ہیڈ کلرک کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس وقت وزیرِاعظم کے پاس وزارتِ برقیات کا قلمدان بھی تھا۔ اسی دور میں ازیر کے مبینہ طور پر وزیرِاعظم فیصل ممتاز راٹھور کے ساتھ قریبی تعلقات استوار ہوئے، جنہوں نے انہیں محکمہ کے اسٹور کا انچارج بنا دیا۔
محکمہ برقیات کا اسٹور ایک نہایت حساس اور مالی طور پر اہم شعبہ سمجھا جاتا ہے، جس کے بارے میں عوامی تاثر ہے کہ یہاں بے ضابطگیوں کے مواقع خاصے زیادہ ہوتے ہیں۔ وقت کے ساتھ دونوں کے تعلقات مزید مضبوط ہوتے چلے گئےجس کی وجوہات کو مبصرین نہ تو پراسرار سمجھتے ہیں اور نہ ہی اتفاقیہ۔
راجہ ازیر تقریباً ایک سال قبل ریٹائر ہو گئے، تاہم ریٹائرمنٹ کے باوجود ان کی مراعات ختم نہ ہوئیں۔ وہ تاحال میرپور میں ایک سرکاری رہائش گاہ پر قابض رہے۔ اس وقت کے ڈپٹی کمشنر میرپور، یاسر ریاض، نے قواعد و ضوابط کے مطابق انہیں سرکاری کوارٹر خالی کرنے کی باقاعدہ ہدایت جاری کی، مگر اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ اس کے کچھ ہی دن بعد، 21 نومبر کوپی پی پی حکومت کے قیام کے صرف چار دن بعدڈپٹی کمشنر یاسر ریاض کا تبادلہ کر دیا گیا۔ اگرچہ اسے معمول کی انتظامی کارروائی قرار دیا گیا، تاہم سرکاری حلقوں میں اس فیصلے نے خاصی توجہ حاصل کی۔
بعد ازاں چوہدری ساجد اسلم کو ڈپٹی کمشنر میرپور تعینات کیا گیا۔ انہوں نے بھی ریٹائرڈ ہیڈ کلرک کو سرکاری کوارٹر خالی کرنے کا حکم دیا، لیکن اس بار بھی حکم کی تعمیل نہ ہوئی۔ ذرائع کے مطابق، وزیرِاعظم سیکریٹریٹ کے بعض حکام نے مداخلت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی کہ وہ راجہ ازیر کے خلاف کارروائی نہ کریں۔
اس دباؤ کے باوجود، ڈپٹی کمشنر ساجد اسلم اپنے مؤقف پر قائم رہے اور کہا کہ وہ فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ کی تحریری درخواست پر عمل کر رہے ہیں، کیونکہ سرکاری رہائش گاہیں اسی محکمے کے انتظامی کنٹرول میں آتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، وزیرِاعظم نے پی پی ایچ کے وزیر کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات پر کوئی توجہ نہ دی اور بالآخر ڈپٹی کمشنر کا تبادلہ کر دیا گیا، جس سے انتظامیہ کی مزاحمت کا باب بند ہو گیا۔
مزید یہ کہ راجہ ازیر نے مبینہ طور پر ڈپٹی کمشنر کو خبردار کیا تھا کہ اگر انہوں نے معاملے کو مزید آگے بڑھایا تو وہ میرپور میں تعینات نہیں رہ سکیں گے۔ اس وقت یہ دھمکی غیر حقیقی محسوس ہوئی، مگر بعد کے واقعات نے اسے درست ثابت کر دیا۔ چند دن قبل ساجد اسلم کا تبادلہ کر دیا گیا، اور ان کی جگہ راجہ صداقت کو نیا ڈپٹی کمشنر تعینات کر دیا گیاجو وزیرِاعظم اور ریٹائرڈ ہیڈ کلرک دونوں کے ہم قبیلہ ہیں۔
یوں، ریٹائرڈ ہیڈ کلرک کی پیش گوئی درست ثابت ہوئی۔ ڈپٹی کمشنر کا تبادلہ ہو گیا، جبکہ راجہ ازیر، مبینہ طور پر وزیرِاعظم سے قریبی تعلقات کی بدولت، بدستور سرکاری رہائش گاہ پر قابض ہیں۔دو ماہ سے بھی کم عرصے میں میرپور میں تین ڈپٹی کمشنرز کی تعیناتی ایک غیر معمولی امر ہے، جسے مبصرین اس ریٹائرڈ افسر کے غیر رسمی مگر طاقتور اثر و رسوخ کا واضح ثبوت قرار دیتے ہیں۔
بہت سے مبصرین کے نزدیک یہ واقعہ محض ایک سرکاری کوارٹر یا ایک انتظامی تبادلے تک محدود نہیں۔ یہ اس نظام کی عکاسی کرتا ہے جہاں رسمی اختیارات کمزور اور غیر رسمی طاقت غیر معمولی حد تک مضبوط ہے۔ ناقدین کے مطابق، قبیلہ جاتی سیاست پر مبنی اس ثقافت میں ایسے واقعات نئے نہیں۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں دہائیوں سے ذاتی وفاداری، خاندانی تعلقات اور اقتدار تک رسائی، ادارہ جاتی درجہ بندی پر غالب رہی ہےجہاں ڈپٹی کمشنرز قابلِ تبادلہ، وزراء بے اثر، اور ریٹائرڈ کلرک ناقابلِ فہم حد تک طاقتور دکھائی دیتے ہیں۔
٭٭٭
ذولفقار علی بی بی سی نیوز سے وابستہ ایک سابق صحافی ہیں۔ادارہ
Share this content:


