جموں میں کالعدم جیش محمد گروہ کے خلاف فوجی آپریشن جاری

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں پولیس کا کہنا ہے کہ جنوبی صوبہ جموں میں ’بھِلاور‘ قصبے کے جنگلات میں وسیع پیمانے کا فوجی آپریشن جاری ہے۔

جموں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ آپریشن کالعدم جیش محمد گروہ سے تعلق رکھنے والے تین مسلح عسکریت پسندوں کی اس علاقے میں موجودگی پر شروع کیا گیا ہے۔

جموں کے انسپکٹر جنرل بھیم سین طُوطی کے مطابق بدھ کی شب گھیرے میں لیے گئے ان تین عسکریت پسندوں نے فورسز پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا۔

یاد رہے کہ بھِلاور قصبہ جموں کے ہندو اکثریتی ضلع کٹھوعہ میں واقع ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ چند برسوں میں پیرپنجال کے ہمالیائی سلسلے کی دونوں جانب پونچھ، راجوری، ڈوڈہ، کشتواڑ، کٹھوعہ اور اُدھم پور کے جنگلاتی علاقوں میں مسلح عسکریت پسندوں سے متعدد مسلح جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں انڈین فورسز کے کئی افسر اور اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

انڈین فوج کا دعویٰ ہے کہ (انڈیا کے زیر انتظام) کشمیر میں سنہ 2025 کے دوران مختلف فوجی آپریشنز میں لگ بھگ 46 عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

انڈین فوج اور حکومتی وزرا متعدد بار یہ الزام عائد کر چکے ہیں کہ مارے گئے ان عسکریت پسندوں میں سے اکثریت پاکستان سے تعلق رکھتی ہے۔

کٹھوعہ میں یہ تازہ جھڑپ ایسے وقت ہوئی ہے کہ جب انڈیا کے وزیرِ داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو نئی دلی میں جموں کشمیر کی سکیورٹی صورتحال پر ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے جس میں فوج، نیم فوجی اداروں، پولیس اور خفیہ اداروں کے سربراہان شرکت کررہے ہیں۔

تصادم کے بعد بھلاور کے وسیع جنگلات کا محاصرہ کیا گیا جس میں فوج، نیم فوجی سی آر پی ایف اور پولیس کا سپیشل آپریشن گروپ شامل ہے۔

اس دوران پورے جموں صوبے میں سکیورٹی مزید سخت کی گئی اور اہم شاہراہوں پر مسافروں اور گاڑیوں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔

Share this content: