خیبرپختونخوا میں پولیس پر بم حملہ، 6 اہلکاروں سمیت 7 افراد ہلاک

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی پر بم حملے میں چھ پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ واقعہ پیر کی صبح تھانہ گومل کی حدود میں پیش آیا ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں تھانہ گومل کے ایڈیشنل ایس ایچ او اسحاق خان بھی شامل ہیں۔

ایک پولیس اہلکار قدرت اللہ نے بتایا ہے کہ بکتربند گاڑی میں ایس ایچ او اور ایڈشنل ایس ایچ او دیگر پولیس اہلکاروں کے ہمراہ معمول کے گشت پر تھے کہ سڑک کنارے نصب دیسی ساختہ بم کا دھماکہ ہوا۔

ان کے مطابق دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ بکتربند گاڑی کے حصے دور دور تک پھیل گئے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق لاشوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ٹانک منتقل کر دیا گیا ہے۔

انسداد دہشت گردی کے محکمے کے حکام نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ذمہ داران کی نشاندہی کے لیے آپریشن جاری ہے۔

خیبر پختونخوا کا ضلع ٹانک جنوبی وزیرستان، بلوچستان کے ضلع ژوب اور ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی سرحد پر واقع ہے اور صوبے میں جاری تشدد کے واقعات میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع میں شامل ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے لیکن پولیس فورس پر حملوں سے امن دشمن عناصر اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت مرنے والے اہلکاروں کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور ان کی ہر ممکن معاونت کی جائے گی۔

Share this content: