ضلع حویلی میں بھاری رشوت کے عوض جنگلاتی اراضی کی جعلی منظوری کا انکشاف

حویلی/ممتاز آباد/کاشگل نیوز

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے ضلع حویلی میں محکمہ مال اور محکمہ جنگلات کے اہلکاروں پر سنگین نوعیت کے الزامات سامنے آئے ہیں، جہاں مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض جنگلاتی اراضی کی جعلی منظوری دے کر غریب شہریوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے، جو کہ سپریم کورٹ پاکستان زیر انتظام کشمیر کے واضح فیصلے کی صریح خلاف ورزی ہے۔

تفصیلات کے مطابق تحصیل ممتاز آباد کی یونین کونسل بدہال شریف کے گاؤں باٹا کوٹ رقبہ چھرہ سے تعلق رکھنے والے ایک غریب اور معذور شہری محمد بشیر چغتا کو متعلقہ سرکاری اہلکاروں نے مبینہ طور پر رشوت کے عوض جنگلاتی اراضی پر تعمیر کی اجازت دی اور باقاعدہ کاغذات بھی جاری کیے۔ تاہم بعد ازاں اسی مقام پر تعمیر کیے گئے مکان کو غیر قانونی قرار دے کر مسمار کر دیا گیا۔

متاثرہ شہری محمد بشیر چغتا کا کہنا ہے کہ متعلقہ افسران نے پہلے پیسے لے کر منظوری دی اور بعد میں خود ہی تعمیر کو غیر قانونی قرار دے کر اس کا مکان گرا دیا، جس کے نتیجے میں اسے لاکھوں روپے کا مالی نقصان اٹھانا پڑا اور اس کے خاندان کی زندگی شدید مشکلات کا شکار ہو گئی ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کشمیر نے سال 2005 کے بعد اراضی الاٹمنٹ کے حوالے سے ایک واضح فیصلہ صادر کرتے ہوئے جنگلاتی اراضی کی کسی بھی قسم کی منظوری پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اس کے باوجود محکمہ مال اور محکمہ جنگلات کے بعض عناصر مبینہ طور پر جعلی دستاویزات کے ذریعے عوام کو گمراہ کر کے بھاری رقوم وصول کر رہے ہیں۔

متاثرہ خاندان نے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور، چیف سیکرٹری آزاد کشمیر اور چیف جسٹس آزاد کشمیر سے انصاف کی فراہمی اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی اپیل کی ہے۔

دوسری جانب عوامی اور سماجی حلقوں نے واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی فوری، شفاف تحقیقات کر کے ملوث کرداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں غریب عوام کو اس طرح کے ظلم اور استحصال سے بچایا جا سکے۔

Share this content: