انسانی زندگی محض جسمانی نشوونما کا نام نہیں بلکہ فکری، جذباتی اور شعوری ارتقا کا ایک مسلسل عمل ہے۔ انسان پیدائش سے لے کر بڑھاپے تک مختلف ذہنی اور نفسیاتی مراحل سے گزرتا ہے، اور ان مراحل کا اثر اس کے ذوق، ترجیحات، سوچ اور بالخصوص سیاست کو سمجھنے کے انداز پر نمایاں طور پر پڑتا ہے۔
انسان جامد نہیں ہوتا، نہ اس کی سوچ پتھر پر لکھی لکیر ہوتی ہے۔ انسان ایک مسلسل ارتقائی عمل کا نام ہے، سوچ کا ارتقا، شعور کا ارتقا اور سب سے بڑھ کر مزاحمت کا ارتقا۔ یہی اصول اگر ہم پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی سیاست پر لاگو کریں تو بہت سی غلط فہمیاں خود بخود دور ہو جاتی ہیں۔
زندگی کے ابتدائی مرحلے یعنی بچپن سے لے کر تقریباً پندرہ برس کی عمر تک انسان کا ذہن سادگی، خوشی اور تفریح کا متلاشی ہوتا ہے۔ اس دور میں مزاح انسان کی بنیادی ضرورت بن جاتا ہے۔ مزاحیہ شاعری، لطیفے، کامیڈی ڈرامے اور ہلکی پھلکی گفتگو اس عمر کے افراد کو اپنی جانب کھینچتی ہے۔ اس مرحلے پر انسان زندگی کو ایک کھیل کی طرح دیکھتا ہے، مسائل کی سنگینی کا شعور ابھی مکمل طور پر بیدار نہیں ہوتا۔ سیاست اگر اس عمر میں سامنے بھی آئے تو وہ نعروں، دلچسپ جملوں اور ظاہری رنگینی تک محدود رہتی ہے۔
پندرہ سے بائیس برس کا عرصہ انسانی زندگی کا وہ مرحلہ ہے جہاں جذبات پہلی بار شدت اختیار کرتے ہیں، مگر یہ شدت زیادہ تر رومانویت میں ڈھلی ہوتی ہے۔ نوجوان شاعری میں محبت تلاش کرتا ہے، موسیقی میں جذبات، اور تقریر میں خواب۔ حتیٰ کہ سیاست بھی اس کے لیے ایک رومانوی تصور بن جاتی ہے۔ انقلاب، آزادی، مساوات اور انصاف جیسے الفاظ دل کو چھو لینے والے خواب محسوس ہوتے ہیں۔ ترقی پسند یا آزادی پسند سیاست اس عمر میں اکثر نعروں، مثالی تصورات اور جذباتی وابستگی کی صورت اختیار کر لیتی ہے، جہاں حقیقت سے زیادہ خواب اہم ہوتے ہیں۔
یہی وہ عمر ہے جب جموں کشمیر کا نوجوان پہلی بار یہ سوال اٹھاتا ہے کہ ہم کون ہیں اور ہم غلام کیوں ہیں۔ نیشنلزم، آزادی، خودمختاری اور انصاف اس کے لیے رومانوی تصورات بن جاتے ہیں۔ وہ شاعری میں آزادی تلاش کرتا ہے، گیتوں میں بغاوت، اور سیاست میں ایک خوبصورت خواب۔ اس مرحلے پر اس کی سیاست جذباتی ہوتی ہے، مگر یہی جذبات آنے والے طوفان کی بنیاد بنتے ہیں۔
اس کے بعد جو مرحلہ آتا ہے، وہ جوانی کا عروج ہے، تقریباً بائیس سے پینتالیس برس تک کا زمانہ۔ یہ وہ دور ہے جب انسان کا خون واقعی ابلتا ہے، جوش و جذبہ عروج پر ہوتا ہے، اور دنیا کو بدل دینے کا یقین پختہ ہو جاتا ہے۔ اس مرحلے میں نوجوان صرف بات نہیں کرتا بلکہ عمل چاہتا ہے۔ جوشیلی تقاریر، انقلابی نغمے، مزاحمتی شاعری اور جارحانہ سیاسی بیانیے دل کو بھاتے ہیں۔ بائیں بازو کی سیاست، طبقاتی جدوجہد، سامراج مخالف نعرے اور قومی آزادی کی تحریکیں اسی عمر میں سب سے زیادہ اثر رکھتی ہیں۔ یہی وہ وقت ہے جب لوگ تحریکوں میں کودتے ہیں، جیلیں بھرتے ہیں، قربانیاں دیتے ہیں اور تاریخ کا حصہ بنتے ہیں۔
یہ وہ عمر ہے جب کشمیر کا نوجوان سوال نہیں کرتا بلکہ للکارتا ہے۔ اس کا خون ابلتا ہے کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اس کی محنت لوٹی جا رہی ہے، اس کی زمین پر فیصلے کہیں اور ہو رہے ہیں، اس کے وسائل پر اشرافیہ قابض ہے اور اسے محض نعروں سے بہلایا جا رہا ہے۔
یہی وہ دور ہے جہاں ترقی پسند، بائیں بازو اور آزادی پسند سیاست اپنی اصل شکل میں سامنے آتی ہے۔ جوشیلی تقاریر، انقلابی نعرے، مزاحمتی شاعری اور سڑکوں پر نکلنے والا عوامی ہجوم یہ سب کسی بیرونی سازش کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ارتقائی شعور کا اظہار ہوتا ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹیاں، مزدور تحریکیں اور طلبہ جدوجہد اسی عمر کے شعور کی پیداوار ہوتی ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب نوجوان سمجھوتہ نہیں بلکہ تصادم مانگتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ حقوق خیرات میں نہیں ملتے، چھیننے پڑتے ہیں۔
لیکن زندگی کا پہیہ یہاں رکتا نہیں۔ پینتالیس برس کے بعد انسان آہستہ آہستہ ٹھہراؤ کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ تجربات، ناکامیاں، کامیابیاں اور زندگی کی سخت حقیقتیں جوش کو اعتدال میں بدل دیتی ہیں۔ اب انسان صرف نعرہ نہیں بلکہ نتیجہ دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ سوال اٹھاتا ہے، تجزیہ کرتا ہے اور سیاست کو جذبات کے بجائے فہم و فراست سے پرکھتا ہے۔ ترقی پسندی اب صرف احتجاج نہیں رہتی بلکہ پالیسی، ادارہ سازی اور پائیدار حل کی تلاش بن جاتی ہے۔ نیشنلزم اب محض جذباتی وابستگی نہیں بلکہ زمینی حقائق اور عالمی تناظر میں اپنی جگہ تلاش کرنے کا نام ہو جاتا ہے۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں انسان ٹھنڈا ہوتا ہے مگر بے حس نہیں بلکہ زیادہ ذمہ دار، متوازن اور سنجیدہ۔ باقی زندگی وہ اسی ٹھہراؤ میں گزارتا ہے، جہاں شور سے زیادہ خاموشی اور نعرے سے زیادہ دانش اہم ہو جاتی ہے۔
پینتالیس برس کے بعد انسان کا شعور ایک اور سطح پر داخل ہوتا ہے۔ یہ پسپائی نہیں بلکہ پختگی ہوتی ہے۔ اب وہی انقلابی جو کبھی سڑکوں پر نعرے لگاتا تھا، سوال اٹھاتا ہے کہ تحریک کو کیسے بچایا جائے، عوامی طاقت کو کس طرح منظم کیا جائے، اور جوش کو شعور میں کیسے بدلا جائے۔
یہ وہ مرحلہ ہے جہاں سیاست نعرے سے حکمت عملی بنتی ہے، جہاں بائیں بازو کی سیاست صرف احتجاج نہیں بلکہ متبادل نظام کی بات کرتی ہے، اور جہاں نیشنلزم جذباتی نعروں سے نکل کر معاشی خودمختاری، وسائل پر عوامی کنٹرول اور فیصلہ سازی میں عوام کی شمولیت کا مطالبہ بن جاتا ہے۔
درحقیقت اگر ترقی پسند، بائیں بازو یا آزادی پسند سیاست کو گہرائی سے دیکھا جائے تو اس میں انسانی زندگی کے یہ تمام مراحل جھلکتے نظر آتے ہیں۔ کہیں مزاح ہے، کہیں رومان، کہیں جوش اور کہیں گہرا ٹھہراؤ۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب کسی ایک مرحلے کی سوچ کو پوری زندگی یا پوری تحریک پر مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کا اصل المیہ یہ ہے کہ یہاں طاقتور طبقات چاہتے ہیں کہ عوام ہمیشہ ایک ہی مرحلے میں قید رہیں، یا تو معصوم، یا جذباتی، یا صرف جوشیلی۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی قوم اپنے ارتقائی سفر کو پہچان لیتی ہے تو پھر اسے زیادہ دیر غلام نہیں رکھا جا سکتا۔
اصل خطرہ انقلابی شعور نہیں بلکہ شعور کا ارتقا ہے، کیونکہ ارتقا یافتہ شعور نہ خریدا جا سکتا ہے، نہ ڈرایا جا سکتا ہے اور نہ وقتی مراعات سے خاموش کیا جا سکتا ہے۔
زندگی ارتقا کا نام ہے اور سیاست بھی۔ جو فرد یا تحریک اس ارتقا کو سمجھ لیتی ہے وہی وقت کے ساتھ زندہ رہتی ہے، باقی تاریخ کے کسی ایک دور میں منجمد ہو کر رہ جاتی ہیں۔ انسان بدلتا ہے، شعور بدلتا ہے اور جب شعور مکمل بلوغت کو پہنچتا ہے تو تاریخ کا دھارا بھی بدل جاتا ہے۔ یہی قانونِ فطرت ہے۔
Share this content:


