کاشگل نیوز تحقیقاتی رپورٹ
پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں انڈسٹری کی صورتحال جاری کیے گئے انڈسٹریل بجلی کنکشنز سے معلوم کی جا سکتی ہے۔
مجموعی طور پر 2312 انڈسٹریل کنکشن ہیں۔ ضلعی سطح پر اگر دیکھا جائے تو میرپور میں سب سے زیادہ 930 کنکشنز ہیں۔ کوٹلی میں 556، بھمبر میں 413، مظفرآباد میں 182، پونچھ میں 105، باغ میں 62، سدھنوتی میں 43، نیلم میں 11، جہلم ویلی میں 10، جبکہ حویلی میں ماضی میں ایک کنکشن رہا ہے، وہ بھی اب ختم ہو چکا ہے۔
میرپور، بھمبر، کوٹلی اور مظفرآباد میں کچھ سگریٹ، ماچس، پولیتھن بیگ اور فوم اور اسی طرح پیکنگ میٹریل کی کچھ چھوٹی فیکٹریاں موجود ہیں۔ باقی زیادہ تر یہ انڈسٹریل کنکشن بلاک فیکٹریوں، لکڑی کے کارخانوں، ماربل کٹنگ کے کارخانوں اور چھوٹی پرنٹنگ پریسوں وغیرہ کے ہیں۔
انڈسٹری کا انداز اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق تمام دس اضلاع میں 4272 انڈسٹریل یونٹس ہیں، جن میں 4432 ورکرز کام کرتے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان انڈسٹریل یونٹس میں سے اکثریتی کاغذوں میں ہی ہیں، جبکہ محض کچھ ہی ہیں جن میں 4 سے زیادہ ورکرز کام کرتے ہیں۔
بیرون ملک ملازمتوں کے بعد روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ تجارت، نجی تعلیم اور صحت کا کاروبار ہے۔ دوسرا بڑا ذریعہ سرکاری ملازمتیں ہیں اور آخری نمبر پر یہ انڈسٹری آتی ہے۔ اس بھاری بھرکم انڈسٹری کی موجودگی کی وجہ سے سرکاری محکموں اور ملازمتوں کو ختم کرنے اور پھر ہر شہری کو روزگار مہیا کروانے والے دانشور بھی یہاں موجود ہیں۔ اسی طرح اس انڈسٹری کے مالک سرمایہ داروں سے اقتدار چھین کر یہاں عوامی راج قائم کرنا بھی مقصود ہے۔
تاہم کوئی بھی اقتدار کے نوآبادیاتی ڈھانچے کو چلانے والی اصل طاقت کے بارے میں سوچنے سے گریزاں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اقتدار مظفرآباد کی اسمبلی سے نہیں، بلکہ طاقت کے اصل مرکز سے چھینا جانا مقصود ہے۔
یہ ایک انڈرڈویلپڈ نوآبادیاتی علاقہ ہے، جس کی معیشت زرمبادلہ پر انحصار کرنے والی صارفین کی معیشت ہے۔ وہ زرمبادلہ ایک سٹیٹ بینک کے ذریعے ہی ان تک پہنچتا ہے، جو ایک نوآبادکار طاقت کا مرکزی بینک ہے۔ اس خطے کا محنت کش طبقہ دوہرے کردار کا حامل ہے، جسے ایک طرح سے کمپراڈور قرار دیا جا سکتا ہے۔ جو بیرون ملک استحصال کا شکار ہوتا ہے اور اپنے علاقے میں آکر ایک درمیانے طبقے کی نفسیات کا حامل اور بعض صورتوں میں خود استحصالی بن جاتا ہے۔
مقامی سطح پر ایک مخصوص تعداد پھر درآمدی معیشت کا حصہ بن کر اپنے زیر اثر کام کرنے والے محنت کشوں کو انتہائی کم اجرت پر استحصال کا شکار بھی بناتی ہے، اس پرت میں بالخصوص تاجر، ٹھیکیدار، پراپرٹی ڈویلپرز وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔
یہاں سب سے بڑا کاروبار انسانی محنت کی بیرون ملک فروخت کے لیے ایجنٹ کا کام کرنا ہے۔ زیادہ تر مالدار لوگ وہی ہیں، جو ریکروٹنگ ایجنٹ رہے ہیں، یا ابھی بھی ہیں۔
ٹیکس کلیکشن کا ایک محدود میکنزم مقامی حکومت کے پاس ہے، 45 لاکھ کی آبادی میں سرکاری ریکارڈ کے مطابق 84044 افراد براہ راست ٹیکس دیتے ہیں۔ بالواسطہ ٹیکسیشن بہت بڑی تعداد میں ہوتی ہے، جس میں سے پراپرٹی ٹیکس اور کچھ ایڈوانس ٹیکسوں کے علاوہ تمام تر ٹیکس پاکستان کی وفاقی حکومت جمع کرتی ہے۔اس ٹیکس میں سے کوئی حصہ متعین نہیں ہوتا، کیونکہ یہ متنازعہ علاقہ ہے۔
یہاں سے وسائل استعمال کرنے یا ٹیکس وصول کرنے کے لیے البتہ اسے صوبے کے طور پر برتاؤ کا سامنا ہوتا ہے۔ اس طرح مقامی بجٹ حکومت پاکستان کی جانب سے دی گئی امدادی رقم کا محتاج ہی رہتا ہے۔ وہ امدادی رقم بند ہو جائے تو پھر ملازموں کو تنخواہیں دینا بھی ناممکن ہو جاتا ہے۔ جس رقم سے یہ ٹیکس جمع ہوتا ہے، وہ بھی سٹیٹ بینک آف پاکستان کے بغیر یہاں کے شہری وصول نہیں کر سکتے۔
یوں دنیا کے چند انقلابات کو واقعات کی حد تک پڑھ لینے اور چند انقلابیوں کے اقوال پڑھ لینے کے بعد انقلاب کا بھوت تو فوری سرپر سوار ہو جاتا ہے، لیکن انقلاب کے لیے جس خطے میں جدوجہد کی جاتی ہے، اس کو گہرائی سے سمجھنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ ان تضادات کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے جو معاشرے میں موجود ہوتے ہیں، اور ان کی نوعیت کا ادراک کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔ تب ہی جا کر کوئی لائحہ عمل مرتب کیا جا سکتا ہے، ورنہ عوامی راج کی جگہ عوام کے جوتے اور آپ کا سر بھی ہو سکتا ہے۔
Share this content:


