نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان (NTUF) کے زیرِ اہتمام اتوار کے روز سائٹ ایریا کراچی میں لیبر کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت فیڈریشن کے صدر کامریڈ گل رحمان نے کی۔
کانفرنس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں مزدوروں نے شرکت کی۔
شرکاء نے جبری طور پر لاپتا کیے گئے مزدور رہنما کامریڈ اقبال ابڑو، بدین میں جاگیرداروں کے ہاتھوں قتل ہونے والے ہاری کیلاش کولہی، اور وینزویلا کے صدر نکولس مادورو—جنہیں ان کی اہلیہ سمیت امریکی حکومت نے اغوا کیا—کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں۔
حکومتی پالیسیوں نے صنعتی ترقی روک دی، مزدور غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیے گئے:
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے رہنما کامریڈ ناصر منصور نے کہا کہ حکومت کی مزدور دشمن پالیسیوں نے صنعتی ترقی کا عمل روک دیا ہے۔ عام مزدور کی حقیقی اجرت 50 فیصد سے زیادہ کم ہو چکی ہے، جس کے باعث نصف آبادی انتہائی غیر انسانی حالات میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے کارخانے مزدوروں کے لیے جدید دور کی جیلوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ 9 کروڑ سے زائد مزدوروں کو یونین سازی کا بنیادی حق حاصل نہیں، جبکہ پاکستان منظم مزدوروں کی سب سے کم شرح رکھنے والے ممالک میں شامل ہے—جو ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ 95 فیصد فیکٹری مزدور تقرری کے خطوط، سوشل سکیورٹی اور پنشن جیسے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔
کنٹریکٹ سسٹم 80 فیصد مزدوروں کو بنیادی حقوق سے محروم کر رہا ہے:
پیپلز لیبر بیورو کے حبیب الدین جونیجو نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود مزدور حقوق کی جدوجہد جاری رکھنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ سسٹم کے باعث 80 فیصد مزدوروں کو تقرری کے خطوط نہیں دیے جاتے، حالانکہ ہر مزدور اس کا حق رکھتا ہے۔ انہوں نے کامریڈ اقبال ابڑو کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔
TGLS سیکٹر کے 1 کروڑ 75 لاکھ مزدور بدترین حالات میں کام کرنے پر مجبور:
ہوم بیسڈ ویمن ورکرز فیڈریشن (HBWWF) کی زہرہ خان نے کہا کہ ٹیکسٹائل، گارمنٹس، لیدر اور شو (TGLS) سیکٹر کے تقریباً 1 کروڑ 75 لاکھ مزدور بدترین حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ بین الاقوامی معاہدوں، خصوصاً GSP+، اور ملکی قوانین کے باوجود جب مزدور نمائندے عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہیں تو انہیں مجرم بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدور رہنماؤں کو ’’ریاست دشمن‘‘ یا ’’بھتہ خور‘‘ قرار دے کر گرفتار یا جبری طور پر غائب کرنا ایک خطرناک سازش ہے۔
انہوں نے کامریڈ اقبال ابڑو کی جبری گمشدگی کو مزدور دشمنی کی بدترین مثال قرار دیا اور کہا کہ یونین توڑنے والوں کے مقامی و بین الاقوامی سرپرستوں کو بے نقاب کیا جائے گا۔
کنٹریکٹ سسٹم پورے صنعتی ڈھانچے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے — HRCP
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کے قاضی خضر نے کہا کہ غیرقانونی کنٹریکٹ سسٹم نہ صرف مزدوروں کی زندگی تباہ کر رہا ہے بلکہ پورے صنعتی و مالیاتی نظام کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ILO صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر اس استحصالی نظام کو ’’لیبر کوڈ‘‘ کے نام پر قانونی شکل دینے کی کوشش کر رہا ہے، جس کی مزدور تنظیمیں بھرپور مزاحمت کر رہی ہیں۔
انہوں نے اقبال ابڑو کی فوری بازیابی کے مطالبے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
SESSI اور ویلفیئر بورڈ کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں:
سائٹ لیبر فورم کے ریاض عباسی نے کہا کہ سوشل پروٹیکشن اداروں—خصوصاً SESSI اور ورکرز ویلفیئر بورڈ—میں بدعنوانی اور بدانتظامی نے انہیں تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ SESSI اسپتالوں کی نااہلی کے باعث کئی بچے اور مریض HIV کا شکار ہوئے، مگر کوئی جوابدہی نہیں ہوئی۔
تمام یونینز کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا ہوگا:
وطن دوست مزدور فیڈریشن کے کامریڈ گل شیر نے کہا کہ مزدور مسائل کے حل کے لیے تمام یونینز اور فیڈریشنز کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی۔
بلدیہ فیکٹری سانحہ کے متاثرین کے فنڈز میں بے ضابطگیاں:
بلدیہ فیکٹری سانحہ کے متاثرین کی تنظیم کے محمد صدیق نے کہا کہ ILO نے جرمن برانڈ کی جانب سے فراہم کردہ 1.5 ارب روپے متاثرین کی مشاورت کے بغیر ایک انشورنس اسکیم میں منتقل کر کے شفافیت کی سنگین خلاف ورزی کی۔ متاثرین کے بارہا مطالبے کے باوجود ILO نے نجی انشورنس کمپنی سے ہونے والا معاہدہ ظاہر کرنے سے انکار کیا۔
نجکاری کو قومی مفاد کے خلاف قرار دیا گیا:
کانفرنس میں مزدور نمائندوں نے PIA کی نجکاری کو ملکی تاریخ کا بڑا مالیاتی اسکینڈل قرار دیتے ہوئے WAPDA اور پاکستان ریلوے سمیت کسی بھی ادارے کی نجکاری کو ’’ملک دشمن‘‘ پالیسی قرار دیا اور اسے فوری طور پر ترک کرنے کا مطالبہ کیا۔
KDLB کی تحلیل کی مذمت، ڈاک ورکرز سے اظہارِ یکجہتی:
مزدور رہنماؤں نے کراچی ڈاک لیبر بورڈ (KDLB) کے خاتمے کے حکومتی فیصلے کی شدید مذمت کی اور ڈاک ورکرز سے مکمل یکجہتی کا اعلان کیا۔
دیگر مقررین:
دیگر مقررین میں عاقب حسین (الٹرنیٹ)، بلال خان، مہرُو، وقاص (ٹیکسٹائل و گارمنٹس یونین)، عزیز (پاکستان پیپر)، نور زمان (ویلیڈس ایمپلائی یونین)، سائرہ فیروز (یونائیٹڈ ایچ بی ورکرز یونین) اور دیگر شامل تھے۔
Share this content:


