انسانی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی کو گرفتارکرنے کا حکم

پاکستان کی اسلام آباد کی ضلعی و سیشن عدالت نے وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو ’’ 24 گھنٹوں کے اندر“ گرفتار کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم کو ہوا دی اور ملک میں مسلح افواج کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کا تاثر پیدا کیا۔ انہی الزامات کی بنیاد پر ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔

ایمان مزاری کے مطابق یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس مقدمے کا آغاز سے لے کر اب تک کا واحد مقصد انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچانا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’یہ وہی رویہ ہے، جو ٹرائل کورٹ نے پہلے اپنایا تھا، جب ہماری غیر موجودگی میں یکطرفہ کارروائی کی گئی اور ہمیں جوابی سوالات کا کوئی حق نہیں دیا گیا۔‘‘

ایمان مزاری نے بتایا کہ اب ایک بار پھر نہ صرف ان کا جوابی سوالات اور دفاع کا بنیادی حق ختم کر دیا گیا ہے بلکہ عدالت نے یہ حکم بھی دے دیا ہے کہ انہیں صرف ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جائے۔، ’’اس کا مقصد واضح ہے۔ عدالت میں جسمانی موجودگی نہیں، جوابی سوالات نہیں، دفاع کا کوئی حق نہیں۔‘‘

Share this content: