اسلام آباد /کاشگل نیوز
پاکستان کے اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت منظور ہونے کے باوجود انسانی حقوق کے معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر وکیل ہادی علی چٹھہ گزشتہ دوسرے روز بھی اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے روم میں موجود رہے۔
ذرائع کے مطابق عدالت سے ضمانت کے احکامات کے باوجود پولیس کی بھاری نفری اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر تعینات ہے، جس کے باعث صورتحال کشیدہ رہی۔
وکلاء برادری، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے کارکنان نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے مکمل اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ کسی ایک فرد یا چند وکلاء تک محدود نہیں بلکہ ملک میں قانون کی بالادستی اور آئین کی عملداری کا مسئلہ ہے۔
وکلاء رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ہر شہری کو آئین و قانون کے مطابق شفاف ٹرائل اور عدالتی تحفظ کا بنیادی حق حاصل ہے، جس سے انکار کسی صورت قبول نہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندگان نے واضح کیا کہ وکلاء قانون کی حکمرانی، آئینی حقوق اور انسانی آزادیوں کے تحفظ کے لیے متحد ہیں اور کسی بھی جبر یا غیرقانونی اقدام کے سامنے مزاحمت کے لیے تیار ہیں۔
وکلاء نے مطالبہ کیا کہ عدالتی احکامات پر فوری اور مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ قانون پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
ادھر صورتحال پر نظر رکھنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت نے عدالتی فیصلوں کے احترام اور ریاستی اداروں کے کردار پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جن کا حل صرف آئین و قانون کی بالادستی میں ہی مضمر ہے۔
Share this content:


