گلگت/ کاشگل نیوز
پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان کے آخری گاؤں چپورسن میں شدید برفباری کے باعث زلزلہ متاثرین کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے جو پہلے سے خیموں میں رہنے پر مجبور تھے۔
گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ کے آخری سرحدی گاؤں چپورسن میں حالیہ آنے والے شدید زلزلے نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے باعث درجنوں مکانات اور بنیادی انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
زلزلے کے بعد جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ہونے والی شدید برف باری نے پہلے سے متاثرہ آبادی کی مشکلات کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔ شدید سرد موسم میں بے گھر ہونے والے خاندان عارضی خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جہاں نہ مناسب تحفظ موجود ہے اور نہ ہی بنیادی سہولیات دستیاب ہیں۔
برف باری کے باعث خیمے برف تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ یخ بستہ ہوائیں انسانی جانوں کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ گرم کپڑوں، کمبلوں اور حرارتی سہولیات کی شدید قلت ہے جس سے خاص طور پر بچے، خواتین اور بزرگ شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
خوراک کی فراہمی بھی بری طرح متاثر ہو چکی ہے کیونکہ رابطہ سڑکیں برف اور ملبے کے باعث بند ہیں اور کئی دنوں سے راشن کی ترسیل ممکن نہیں ہو سکی۔ پینے کے صاف پانی کی قلت ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے کیونکہ برف باری کے بعد پانی کے قدرتی ذرائع منجمد یا ناقابلِ استعمال ہو گئے ہیں۔
علاقے میں صحت کا نظام عملی طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ بنیادی صحت مراکز غیر فعال ہیں، ادویات کی شدید کمی ہے اور طبی عملہ موجود نہیں۔ زلزلے اور شدید سردی کے باعث مختلف بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے مگر متاثرین کو بروقت طبی سہولیات میسر نہیں۔ ہنگامی مریضوں کو ضلعی ہیڈکوارٹر منتقل کرنا بھی ممکن نہیں کیونکہ سڑکوں کی بندش نے ہر قسم کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا ہے۔
چپورسن میں مواصلاتی نظام بھی مکمل طور پر فعال نہیں۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس جزوی اور غیر یقینی ہے جس کے باعث متاثرہ آبادی کا ضلعی اور صوبائی سطح پر رابطہ شدید متاثر ہے۔ اس نامکمل مواصلاتی نظام نے امدادی سرگرمیوں کو مزید سست کر دیا ہے اور متاثرین کی آواز ایوانوں تک پہنچنے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
سینئر صحافی و کالم نگار ثاقب عمر کے مطابق اس سنگین صورتحال میں ہنزہ کی ضلعی انتظامیہ اور صوبائی نگران حکومت کا کردار شدید سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ عملی امداد کے بجائے نگران حکومت کے وزرا محض فوٹو سیشنز اور رسمی دوروں تک محدود نظر آتے ہیں جبکہ چپورسن جیسے دور افتادہ اور حساس علاقے کے عوام شدید سردی، بھوک اور بے بسی کا سامنا کر رہے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بروقت ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں جس نے عوامی غم و غصے کو مزید بڑھا دیا ہے۔
متاثرہ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ چپورسن کے رہائشیوں کو فوری طور پر محفوظ متبادل مقامات پر منتقل کیا جائے تاکہ مزید جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے، زلزلے سے ہونے والے تمام نقصانات کا فوری اور شفاف ازالہ کیا جائے اور گھروں، زمینوں اور انفراسٹرکچر کے نقصانات کا ہنگامی بنیادوں پر تخمینہ لگا کر معاوضہ فراہم کیا جائے۔
عوامی حلقوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں جیالوجیکل سروے ٹیم بھیجی جائے تاکہ زلزلے کی وجوہات، زمینی دراڑوں اور ممکنہ آئندہ خطرات کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیا جا سکے اور مستقبل میں کسی بڑے سانحے سے بچاؤ کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا سکیں۔
Share this content:


