سکردو/ کاشگل نیوز
گلگت بلتستان یونائیٹڈ موومنٹ کے چیف آرگنائزر شبیر مایار نے عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے رہنماؤں کے خلاف پرامن افطار پارٹی کے انعقاد پر ایف آئی آر کے اندراج کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی جبر قرار دیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ احسان علی ایڈووکیٹ، تعارف عباس ایڈووکیٹ اور انجینئر محبوب علی، فدا علی ایثار، نفیس ایڈووکیٹ سمیت دیگر رہنماؤں پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 6/7 اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 153-A اور 505 کے تحت جعلی ایف آئی آر کا اندراج اور گرفتاری انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ہمیشہ آئینی اور جمہوری طریقوں سے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی ہے اور پرامن اجتماعات آئین پاکستان کے تحت بنیادی حق ہیں۔
ان کا آخر میں کہنا تھا کہ گلگت بلتستان یونائیٹڈ موومنٹ گرفتار رہنماؤں کی فوری رہائی، بے بنیاد مقدمات واپس لینے اور آئندہ پرامن سیاسی یا سماجی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں کو روکنے کا مطالبہ کرتی ہے۔
Share this content:


