کراچی : ایمان مزاری کو سنائی گئی سزا کے خلاف ایچ آر سی پی کا احتجاجی مظاہرہ

کراچی میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی جانب سے سماجی کارکن و وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ کو پیکا ایکٹ کے تحت سنائی گئی سزا کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے۔ مظاہرے میں ایچ آر سی پی کے چیئرمین اسد اقبال بٹ، عظمیٰ نورانی، پروفیسر توصیف احمد، قاضی خضر، کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی اور دیگر کارکنان نے شرکت کی۔

ایچ آر سی پی کی کارکن عظمیٰ نورانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن شروع دن سے پیکا ایکٹ کے خلاف آواز اٹھاتا رہا ہے کیونکہ ان کے مطابق یہ قانون عوام کی آواز دبانے کی کھلی کوشش ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’جو زیادتیاں ہو رہی ہیں وہ بدستور جاری ہیں، مگر سزا ان لوگوں کو دی جاتی ہے جو سچ بولتے ہیں اور عوام کی اصل آواز بنتے ہیں۔‘

کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی نے پیکا کے تحت سنائی گئی سزا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایک ٹویٹ یا اختلافی بیان پر 17 سال کی سزا دینا کہاں کا انصاف ہے؟ وہ بھی ایک انسان دوست ایکٹوسٹ اور وکیل کو، یہ ناقابلِ قبول ہے۔‘

انھوں نے پریس کلب کے باہر پولیس کی بھاری نفری اور علاقے کی ناکہ بندی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہاں مظاہرین سے زیادہ پولیس موجود ہے۔ پریس کلب کو چاروں طرف سے کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے، لوگوں کو جمع ہونے نہیں دیا جا رہا۔ ملک کو آخر کس سمت لے جایا جا رہا ہے؟ بظاہر یہاں پارلیمان اور جمہوریت موجود ہے مگر سب کچھ ربڑ سٹیمپ بنا دیا گیا ہے۔‘

پروفیسر اصغر دشتی نے کہا کہ پیکا ایکٹ کے ذریعے ہر اُس آواز کو خاموش کیا جا رہا ہے جو اختلاف رکھتی ہے۔ ان کے مطابق ’حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ اظہارِ رائے عوام کا بنیادی حق ہے، جس کی ضمانت آئین پاکستان فراہم کرتا ہے۔‘

احتجاج سے قبل کراچی پریس کلب آنے والی تمام سڑکوں کو پولیس نے رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا تھا۔ ماحولیاتی کارکن ذوالفقار جونیئر کو بھی پریس کلب پہنچنے سے روک دیا گیا۔

اس سے ایک روز قبل بلوچ یکجہتی کمیٹی کی پریس کانفرنس کے موقع پر بھی پریس کلب کا گھیراؤ کیا گیا تھا۔

Share this content: