پاکستانی کشمیر میں ہنی ٹریپ کے وارداتوں میں اضافہ، لوگ عدم تحفظ اورخوف و ہراس کا شکار

مظفرآباد /کاشگل نیوز

پاکستان کے زیرا نتظام جموں کشمیر میں تھانہ کہوڑی کی حدود میں یونین کونسل سید پور کے گاؤں بٹنگی میں ہنی ٹریپ اور پرتشدد وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ تشویش ناک صورتحال اختیار کر گیا ہے۔

تازہ ترین واقعہ میں محمد نعیم ولد علی زمان عمر تقریباً 28 سال کو 27 جنوری کی شب راولاکوٹ سے کام مکمل کر کے رات کے اندھیرے میں اپنے گھر واپس آتے ہوئے نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا۔

حقیقی بھائی محمد یاسر نے مرکزی ایوان صحافت کے سائلین ڈیسک پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مغوی نوجوان کو تقریباً رات بھر ایک گروہ کی جانب سے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

متاثرہ نوجوان کو رسیوں سے باندھ کر اس کے سر کے بال منہ کالا کر کے گلے میں رسی سے باندھ کر برف پر گھسیٹا گیا اور مسلسل جسمانی و ذہنی اذیت دی جاتی رہی۔

واقعہ کے دوران مغوی کے بھائی محمد یاسر کو نامعلوم نمبروں سے فون کالز کے ذریعے ڈیڑھ لاکھ روپے تاوان کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا۔

اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ نوجوان سے دو عدد موبائل فون اور مبلغ دس ہزار روپے نقدی بھی زبردستی چھین لی گئی۔

عینی شاہدین اور متاثرہ خاندان کے مطابق تشدد میں ملوث افراد میں محمد صادق، عبداللہ، ارشد، ساجد، سجاد، شہباز، کامران اور دیگر شامل تھے۔

تشدد کے بعد ملزمان نے خود ہی پولیس تھانہ کہوڑی کو اطلاع دے کر شدید زخمی حالت میں نوجوان کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

اس اندوہناک واقعہ کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس کی فضا قائم ہو چکی ہے، جبکہ ہنی ٹریپ اور اس نوعیت کے جرائم میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے لمحہ فکریہ بن چکا ہے۔

علاقہ بٹنگی اور گرد و نواح کے عوام نے انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر، ایس ایس پی مظفرآباد اور تھانہ کہوڑی کے ذمہ داران سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ کی فوری، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات عمل میں لائی جائیں، ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور اس قسم کے بڑھتے ہوئے جرائم کی مؤثر روک تھام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کو تحفظ اور انصاف فراہم کیا جا سکے۔

Share this content: