بلوچستان میں بک اسٹال پر پولیس کاحملہ، تمام کتابیں ضط، انتظام کار طلبا گرفتار

پاکستان کے زیر انتظام بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی ( بساک) کی جانب سے قائم کی گئی بک اسٹال پر پولیس نے دھاوابول کر تمام کتابیں ضط کیں اور انتظام کارطالب علموں کوگرفتارکرلیا۔

واقعہ کی تصدیق بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے کرتے ہوئے کہا کہ بساک کی جانب سے آج جتک روڈ، ڈیرہ مراد جمالی میں ایک تعلیمی و فکری کتاب اسٹال قائم کیا گیا تھا۔ بدقسمتی سے اسٹال لگنے کے کچھ ہی دیر بعد، تقریباً 12:30 بجے، غلام علی کنڑرانی (SHO) اپنے سپاہیوں کے ہمراہ وہاں پہنچے اور کتابوں کو اس انداز میں اٹھا کر گاڑی میں پھینکا گیا جیسے وہ علم و آگاہی کا ذریعہ نہیں بلکہ کوئی ممنوعہ منشیات ہوں۔

تنظیم کے مطابق کتابوں کے ساتھ یہ سلوک دراصل بلوچستان میں تعلیم، شعور اور فکری ترقی کے خلاف ایک کھلی دشمنی کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہاکہ یہ کتابیں پاکستان میں موجود رجسٹرڈ اشاعتی اداروں سے شائع ہو کر ملک کے مختلف حصوں میں دستیاب ہیں۔ اگر بلوچستان میں تعلیمی اداروں اور طلبہ تنظیموں کو کتاب اسٹال لگانے کی اجازت نہیں، تو پھر انہی کتابوں کو شائع کرنے والے اداروں کو اجازت دینا کس منطق کے تحت درست ہے؟ یہ دوہرا معیار اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں علم کو جرم سمجھا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ بلوچستان میں آئے روز ایسے واقعات پیش آتے ہیں جہاں ریاستی ادارے علم، کتاب اور سوال کرنے والوں کے ساتھ یہی رویہ اختیار کرتے آئے ہیں۔

تنظیم کے مطابق مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ نہ صرف کتابوں کی توہین کی گئی بلکہ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے جایا گیا، جبکہ موقع پر موجود دیگر دوستوں کو دھمکایا اور ہراساں کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ہم اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ گرفتار ساتھیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے، کتابوں اور علم کے خلاف اس جابرانہ رویے کا خاتمہ کیا جائے، اور بلوچستان میں تعلیمی و فکری سرگرمیوں کو جرم بنانے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ کتاب اٹھانے والے ہاتھوں کو ہتھکڑی نہیں، احترام ملنا چاہیے، کیونکہ کتاب سے ڈرنے والی ریاست کبھی مضبوط نہیں ہو سکتی۔

Share this content: