پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے علاقے باغ میں خواتین عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام "عوامی حقوق تحریک اور مستقبل کا سوال” کے عنوان سے پانچواں ماہانہ اسٹڈی سرکل منعقد ہوا، جس میں کمیٹی کی خواتین ممبران نے بھرپور شرکت کی۔
اجلاس میں پاکستانی جموں کشمیر میں جاری عوامی حقوق تحریک کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ تحریک بنیادی طور پر آٹے اور بجلی کے بحران کے خلاف شروع ہوئی تھی، مگر عوامی شمولیت اور مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں یہ مطالبات حقِ ملکیت اور حقِ حکمرانی جیسے بڑے سوالات تک جا پہنچی ہے۔
شرکاء کے مطابق عوام نے تین بڑے مارچ، درجنوں احتجاج، دھرنے اور ہڑتالیں کر کے اپنے بنیادی حقوق کے لیے بے مثال قربانیاں دیں، مگر اس کے بدلے انہیں صرف نوٹیفکیشنز اور وعدوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اب تحریک کے سامنے اصل سوال اقتدار کی عوام تک منتقلی کا ہے، جس پر مختلف حلقوں میں نئی بحث جنم لے رہی ہے۔
حقِ حکمرانی کے ان طریقہ کار کو کمیٹیوں میں زیر بحث لانا چاہیے:
1۔ موجودہ انتخابی نظام کا حصہ بن کر اقتدار میں آنا اور اقتدار کو عوام میں منتقل کرنا
2۔ متبادل آئین ساز اسمبلی کا قیام
3۔ 13 اگست 1948 کی قرارداد کے تحت متنازعہ حیثیت کی بحالی کی جدوجہد
پہلے طریقہ کار کو اگر دیکھیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ معاہدہ کراچی، ایکٹ چوہتر کی موجودگی میں موجودہ انتخابی نظام کا حصہ بن کر عوام کو اقتدار کی منتقلی محض خام خیالی ہے۔
دوسرا طریقہ متبادل آئین ساز اسمبلی کے قیام کی طرف اگر ہم بڑھتے ہیں تو اس پر پہلا سوال متنازعہ حیثیت کی بحالی کے بغیر متبادل آئین ساز اسمبلی کیسے قائم کی جا سکتی؟ اور اس اسمبلی کو تسلیم کون اور کیوں کرے گا؟
اقتدار کی عوام کو منتقلی کا تیسرا طریقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں جموں کشمیر کی متنازع حیثیت کی بحالی کی طرف بڑھنا اور سلامتی کونسل کے زیرِ سایہ عوامی حکومت کا قیام عمل میں لانا جو رائے شماری کی طرف بڑھ سکے۔
تحریک کو یہاں سے اگلے مرحلے کی طرف سفر دینے کے لیے نام نہاد آزاد جموں کشمیر کی پچیدہ صورتحال میں کون سا طریقہ زیادہ بہتر اور جاندار ہے جس سے بین الاقوامی دنیا کی توجہ ریاست جموں کشمیر کے مسئلہ پر مرکوز کروائی جا سکے، نیز یہاں کے مزاحمتی عوام کو جدوجہد کے لیے درست سمت مل سکے۔
تحریک میں موجود متحرک افراد کو اس پر نتیجہ خیز مکالمہ کرنا ہو گا۔
Share this content:


