گلگت/ کاشگل نیوز
ڈنمارک سے تعلق رکھنے والی معروف فوٹو جرنلسٹ لورا نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان کی خوبصورت مگر پسماندہ چپورسن ویلی حالیہ زلزلے کے باعث شدید انسانی بحران سے دوچار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ زلزلے کے نتیجے میں ہزاروں مکانات مکمل طور پر منہدم ہو چکے ہیں جبکہ درجہ حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے کے باعث متاثرین انتہائی کٹھن موسمی حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
یہ بات انہوں نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ہنزہ سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری کے صدر مبارک حسین اور ڈائریکٹر فارن ٹریڈ نظیم اللہ بیگ کے ہمراہ منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
لورا نے بتایا کہ اس وقت علاقے میں گرم کمبل، خیمے، خوراک اور ادویات کی فوری اور اشد ضرورت ہے، جبکہ شدید سردی کے باعث بزرگ، بچے اور مویشی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندان تاحال مؤثر حکومتی امداد کے منتظر ہیں اور بروقت مدد نہ ملنے کی صورت میں انسانی المیے میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس موقع پر ہنزہ سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری کے صدر مبارک حسین نے لورا کے جذبۂ انسانیت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈنمارک سے بطور سیاح پاکستان آئی تھیں، مگر چپورسن کے متاثرین کی حالتِ زار دیکھ کر انہوں نے اپنی تمام مصروفیات ترک کر کے ذاتی وسائل سے امدادی سرگرمیوں کا آغاز کیا، جسے ڈنمارک کے سفارتخانے نے بھی سراہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ چین کی جانب سے آنے والا امدادی سامان تاحال سست بارڈر پر رکا ہوا ہے، جسے فوری طور پر متاثرہ علاقوں تک پہنچایا جانا ناگزیر ہے۔
ڈائریکٹر فارن ٹریڈ نظیم اللہ بیگ نے بھی لورا کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چپورسن کے مسئلے کو بین الاقوامی میڈیا پر مؤثر انداز میں اجاگر کر کے متاثرین کی آواز عالمی سطح تک پہنچائی ہے، جو قابلِ تحسین اقدام ہے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر وفاقی اور صوبائی حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا گیا کہ چپورسن کے زلزلہ متاثرین کے لیے فوری طور پر جامع امدادی پیکج کا اعلان کیا جائے اور سرد موسم سے قبل متاثرہ خاندانوں کی بحالی کو یقینی بنایا جائے۔
Share this content:


