مظفرآباد/کاشگل نیوز
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں سرکاری سطح پر سبسڈی دی گئی آٹے کی قلت شدت اختیار کر گئی ہے، جس کے باعث دارالحکومت مظفرآباد سمیت مختلف علاقوں میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
سبسڈائزڈ آٹا دستیاب نہ ہونے کے باعث شہری مہنگے داموں غیر سبسڈی شدہ آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔
سرکاری سطح پر سبسڈائزڈ آٹے کی 20 کلوگرام تھیلی کی مقررہ قیمت 1100 روپے ہے، تاہم مارکیٹ میں غیر سبسڈی شدہ آٹے کی 20 کلوگرام تھیلی 2900 سے 3150 روپے تک فروخت کی جا رہی ہے، جس پر شہریوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی قلت نے ان کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر دیا ہے، جبکہ مہنگے داموں آٹا خریدنا عام آدمی کے بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔
دوسری جانب جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے کور ممبر شوکت نواز میر نے اس صورتحال پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے ضلعی سطح پر آٹے کی ڈسٹرکٹ سے باہر ترسیل پر پابندی عائد ہے، جس کے باعث پاکستان زیرِ انتظام کشمیر کے عوام متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس مسئلے کو گزشتہ روز وفاقی وزرا کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں زیرِ غور لایا گیا ہے۔ شوکت نواز میر کا کہنا تھا کہ کچھ وقت تک حکومت کے ردِعمل کا انتظار کیا جائے گا، تاہم اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
آٹے کی بڑھتی ہوئی قلت اور قیمتوں میں اضافے نے ایک بار پھر خطے میں غذائی تحفظ اور حکومتی انتظامات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
Share this content:


