بلوچستان میں حالات تاحال کشیدہ، حملے جاری ، ایمرجنسی نافذ، انٹرنیٹ سروسز بند

پاکستا ن کے زیر انتظام مقبوضہ بلوچستان میں بلوچ آزادی پسندوں کے منظم اور مہلک حملے جاری ہیں جس سے درجنوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جبکہ دوسری جانب پاکستان کے وزیر داخلہ نے بلوچستان میں 37عسکریت پسندوں اور 10 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کادعویٰ کیا ہے۔

انٹر نیٹ کی بندش سے تازہ ترین اطلاعات تک رسائی ممکن نہیں ہوپارہی اور خبروں کے تصدیق کا بھی عمل سست روہی کا شکار ہے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے سنیچر کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں عسکریت پسندی کے واقعات میں 37 عسکرت پسندوں اور 10 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

محسن نقوی نے عسکریت پسندوں کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت‘ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے سنیچر کے روز بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں کو ناکام بنا دیا ہے۔

کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں صبح سے دھماکوں اور فائرنگ کی اطلاعات آنا شروع ہوئیں جبکہ کچھ علاقوں میں دھماکے بھی سنے گئے۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے مطابق بلوچستان میں 12 مقامات پرعسکریت پسندوں نے حملے کیے جن میں کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، پسنی اور گوادر شامل ہیں۔

وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران مختلف آپریشنز میں 88 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

خیال رہے کہ پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے آئی ا یس پی آر نے جمعے کو بتایا تھا کہ بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دو الگ الگ کارروائیوں کے دوران 41 عسکریت پسند ہلاک کیے گئے۔

کوئٹہ میں میں بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق سنیچر کو کوئٹہ کے علاوہ نوشکی، مچھ، مستونگ اور پسنی میں بھی عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کی اطلاعات ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ کوئٹہ شہر میں دھماکوں اور فائرنگ کے بعد ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ سول سیکریٹیریٹ اور عدالتوں سمیت سرکاری دفاتر میں سرگرمیاں روک دی گئی ہیں۔

بلوچستان میں انسداد دہشت گردی پولیس (سی ٹی ڈی) کا کہنا ہے کہ کوئٹہ کے سریاب روڈ پر ایک کارروائی کے دوران 4مبینہ عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔

دہشت گردی کے واقعات کے باعث کوئٹہ سے اندرون ملک آنے اور جانے والی ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے۔ کوئٹہ سے پشاور آنے والی جعفر ایکسپریس کو بھی جیک آباد پر روک لیا گیا ہے۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور فی الحال مزید کچھ نہیں بتایا جا سکتا۔

حملوں کے بعد کوئٹہ شہر میں انٹرنیٹ سروس بند ہے اور ہیلی کاپٹر فضا میں دکھائی دے رہے ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے مشیر شاہد رند شاہد رند نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ’گذشتہ دو روز میں بلوچستان میں مختلف مقامات پر 70 سے زائد عسکریت پسندوں کے مارے جانے کے بعد بلوچستان میں چند مقامات پر عسکریت پسندوں نے حملے کی کوشش کی ہے جس کو پولیس اور ایف سی نے بروقت کارروائی کر کے ناکام بنا دیا ہے۔‘

اسی طرح بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان میں گذشتہ 12 ماہ کے دوران سکیورٹی فورسز نے 700 سے زائد عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ صرف گذشتہ دو روز میں سکیورٹی فورسز نے مختلف کارروائیوں میں 70 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

سنیچر کو دہشت گردوں کی کوئٹہ اور مختلف شہروں میں کارروائیوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ’آج علی الصبح فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے مختلف علاقوں میں حملوں کی کوشش کی، بلوچستان پولیس اور ایف سی کے جانباز جوانوں نے مل کر دہشت گردوں کے تمام حملے ناکام بنا دیے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائیوں میں اب تک 37 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ ’یہ بزدلانہ حملے دہشت گردی کے خلاف ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، ریاست آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے مشیر شاہد رند نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان میں چند مقامات پر شدت پسندوں نے حملوں کی کوشش کی ہے جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ناکام بنا دیا ہے جبکہ دوسری جانب کوئٹہ شہر میں دھماکوں اور فائرنگ کے بعد ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے۔

شاہد رند کا مزید کہنا ہے کہ اس وقت بھاگنے والے عسکریت پسندو ں کا تعاقب جاری ہے اور مزید تفصیلات بہت جلد سامنے لائی جائیں گی۔

بی بی سی کے نامہ نگار محم کاظم کے مطابق، کوئٹہ شہر میں دھماکوں اور فائرنگ کے بعد ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ سول سیکریٹیریٹ اور عدالتوں سمیت سرکاری دفاتر میں سرگرمیاں روک دی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ بلوچستان کے شہر مستونگ میں جیل پر حملے کے نتیجے میں متعدد قیدیوں کے فرار ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

بلوچستان کے شہر مچھ میں مقامی انتظامیہ کی جانب سے مساجد سے اعلانات کروائے گئے کہ امن وامان کی صورتحال کے باعث لوگ اپنے گھروں سے نہ نکلیں۔

خیال رہے کہ آج صبح سے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیتبلوچستان کے مختلف شہروں میں دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات کی اطلاعات ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق، کوئٹہ میں ایک حملے میں 2 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سی ٹی ڈی کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کوئٹہ کے سریاب روڈ پر ایک کارروائی کے دوران چار مبینہ عسکریت پسندو ں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں صبح سے دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات کی اطلاعات ہیں جبکہ پولیس حکام کے مطابق، کوئٹہ میں ایک حملے میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق، کوئٹہ شہر میں صبح چھ بجے کے قریب سے دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں اور کچھ دیر قبل بھی ایک زوردار دھماکہ سنا گیا ہے۔

دوسری جانب سی ٹی ڈی کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کوئٹہ کے سریاب روڈ پر ایک کارروائی کے دوران چار مبینہعسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور فی الحال مزید کچھ نہیں بتایا جا سکتا۔

دارالحکومت کوئٹہ کے علاوہ پسنی، نوشکی اور خاران سے بھی حملوں کی اطلاعات ہیں۔

بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کے باعث کوئٹہ آنے اور وہاں سے جانے والی تمام ٹرینوں روک دی گئی ہیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق، حملوں کے بعد شہر میں انٹرنیٹ سروس بند ہے اور ہیلی کاپٹر فضا میں دکھائی دے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے سنیچر کے روز ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں انھوں نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے آپریشن ہیروف کا دوسرا مرحلہ قرار دیا ہے۔

بی ایل کے آفیشل ٹیلی گرام چینل پر جاری کئی تصاویر اور ویڈیو فوٹیج میں نوشکی میں ڈپٹی کمشنر کو بھی گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے جس کی تصدیق ویڈیو میں خود ڈی سی کر رہے ہیں کہ وہ ابھی بی ایل اے کے تحویل میں ہے ۔

Share this content: