پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے سینئر سیاست دان اور سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری 71 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔
سلطان محمود چوہدری طویل عرصے سے علیل تھے اور سنیچر کو اسلام آباد کے الشفاء ہسپتال میں ان کا انتقال ہوا۔
ان کے پرسنل سٹاف آفیسر کمال حیدر کے مطابق ان کی نماز جنازہ چیچیاں، میرپور میں اتوار کی شام چار بجے ادا کی جائے گی۔
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری 9 اگست 1955 کو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع میرپور کے علاقے چیچیاں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں چیچیاں میں حاصل کی جبکہ میٹرک کینٹ پبلک سکول راولپنڈی اور گریجویشن گورڈن کالج راولپنڈی سے کیا۔
اس کے بعد سلطان محمود چوہدری اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے جہاں سے انہوں نے لِنکنز اِن سے بار ایٹ لاء کیا ۔ سنہ 1983ء میں وہ برطانیہ سے وطن واپس آئے اور عملی سیاست کا آغاز کیا۔
ان کا تعلق ایک سیاسی گھرانے سے تھا، ان کے والد چوہدری نور حسین بھی کشمیر کی سیاست کا ایک نمایاں نام رہے جنہوں نے آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس سے علیحدگی اختیار کر کے آزاد مسلم کانفرنس کے نام سے اپنی جماعت بنائی اور اسی پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
سلطان محمود چوہدری 1985 میں اپنے والد چوہدری نور حسین کی سیاسی جماعت آزاد مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے رکن قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ اسی پلیٹ فارم سے 1990 میں بھی ممبر منتخب ہوئے اور پیپلزپارٹی کے ساتھ اسمبلی میں اتحاد کیا۔
سنہ 1991 کے انتخابات میں بیرسٹر سلطان محمود اپنی آبائی نشست سے بھی ہار گئے۔ اس دوران انہوں نے اپنی جماعت آزاد مسلم کانفرنس کو جموں و کشمیر لبریشن لیگ میں ضم کر دیا۔
سنہ 1996 کے انتخابات سے پہلے ہی بیرسٹر سلطان محمود اپنی جماعت لبریشن لیگ سمیت پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے اور وزیراعظم بن گئے۔ 12 اکتوبر 1999 کو جب مرکز میں جنرل مشرف نے نواز شریف کی حکومت ختم کی تو کشمیر میں بیرسٹر سلطان کی حکومت کو بدستور کام کرنے کا موقع دیا گیا۔ اس دوران ان کے جنرل مشرف کے ساتھ بھی اچھے تعلقات قائم ہوگئے۔
سنہ 2001 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب نہ ہوسکی اور وہ پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے ہی اپوزیشن لیڈر بنے۔
بے نظیر بھٹو کی جانب سے پارٹی قیادت سے ہٹائے جانے کے بعد 2006 کے انتخابات سے پہلے بیرسٹر سلطان محمود نے اپنی جماعت جموں و کشمیر پیپلز لیگ بنائی جو صرف چار نشستیں جیت سکی۔
سنہ 2011 کے انتخابات سے قبل بیرسٹر سلطان نے اپنی جماعت پیپلز لیگ کو پیپلز پارٹی میں ضم کردیا۔ پیپلز پارٹی کو انتخابات میں واضح برتری ملی، لیکن پیپلز پارٹی کی قیادت نے سلطان محمود کو نظرانداز کر دیا اور کوئی بڑا عہدہ نہیں دیا۔
اس کے بعد سنہ 2015 میں بیرسٹر سلطان محمود دوسری مرتبہ پیپلز پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔
سنہ 2016 کے انتخابات میں انہیں بحیثیت صدر تحریک انصاف شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم 2019 میں مسلم لیگ ن کے چوہدری سعید کی نااہلی کے باعث خالی ہونے والی نشست پر وہ کامیاب ہو کر قانون ساز اسمبلی میں پہنچے۔
بیرسٹر سلطان محمود اپنے آبائی حلقے میرپور سے 08 مرتبہ رکن قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے جبکہ انہیں دو مرتبہ الیکشن میں شکست کا سامنا رہا۔
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری مختلف ادوار میں آزاد مسلم کانفرنس، لبریشن لیگ، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے صدر کے عہدوں پر فائز رہے۔ وہ 2021ء میں پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے صدر منتخب ہوئے تھے۔
وہ مسئلہ کشمیر کو عالمی فورمز پر اجاگر کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتے تھے۔
سلطان محمود چوہدری نے اقوام متحدہ، امریکی وزارتِ خارجہ اور مختلف ممالک کی پارلیمانوں میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں کشمیریوں کے احتجاجی مظاہروں اور ملین مارچز کی قیادت کی۔
انہوں نے لندن کے ٹریفالگر سکوائر، نیویارک میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے، برسلز میں یورپی یونین اور یورپی پارلیمنٹ، ڈبلن میں آئرلینڈ کی پارلیمنٹ اور دیوارِ برلن پر منعقد ہونے والے احتجاجی مارچز کی قیادت بھی کی۔
Share this content:


