تحریر: ذوالفقار علی
آزاد جموں و کشمیر کے قائم مقام صدر آئین کے مقررہ وقت سے زیادہ عرصے تک عہدے پر برقرار ہیں، جس سے خطے کی سیاسی اور انتظامی اشرافیہ کی جانب سے قانون کی حکمرانی کے احترام پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔
صدر کا عہدہ اس سال 30 جنوری کو صدر کے انتقال کے بعد خالی ہوا۔ آئین کے مطابق نئے صدر کا انتخاب 30 دن کے اندر لازمی ہے۔یہ مدت ختم ہوئے تقریباً 65 دن گزرن گئے لیکن اس کے باوجود صدر کا انتخاب نہیں ہوا۔
آئین کے سیکشن 9 کے مطابق جب صدر کا عہدہ وفات، استعفیٰ یا کسی بھی وجہ سے خالی ہو جائے تو اسمبلی کا اسپیکر یہ ذمہ داریاں ادا کرے گا:
الف) نئے صدر کے انتخاب تک قائم مقام صدر کے طور پر فرائض انجام دینا۔
ب) اس بات کو یقینی بنانا کہ عہدہ خالی ہونے کے 30 دن کے اندر انتخاب ہو جائے۔
واحد استثنیٰ یہ ہے کہ اگر اسمبلی تحلیل کر دی جائے۔ اس صورت میں عام انتخابات کے بعد 30 دن کے اندر صدر کا انتخاب لازمی ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ اسمبلی تحلیل کے بغیر انتخاب میں تاخیر کی کوئی قانونی وجہ موجود نہیں۔کسی بھی دانستہ تاخیر کو آئین کی خلاف ورزی اور آئین کی پاسداری کے حلف کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔
آئین کے آرٹیکل 50 کے تحت الیکشن کمیشن اسمبلی، بلدیاتی اداروں، صدر اور وزیر اعظم کے انتخابات کے انعقاد، انتظام اور نگرانی کا ذمہ دار ہے۔ اس کی ذمہ داری ہے کہ انتخابات آزاد، منصفانہ اور قانون کے مطابق ہوں۔
اس کے باوجود قائم مقام صدر مقررہ مدت سے زیادہ عرصے سے عہدے پر برقرار ہیں اور مکمل صدارتی اختیارات استعمال کر رہے ہیں۔یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ دونوں عہدوں کے فوائد ایک ساتھ حاصل کر رہے ہیں۔
ان میں مظفرآباد میں اسپیکر کا دفتر اور سرکاری رہائش گاہ، اور اسلام آباد میں اسپیکر کا چیمبر شامل ہیں۔ اسی وقت صدر کے مظفرآباد اور اسلام آباد میں موجود دفاتر اور رہائش گاہیں بھی مبینہ طور پر استعمال میں ہیں۔دونوں عہدوں سے منسلک سرکاری گاڑیاں، سیکیورٹی اور پروٹوکول بھی ایک ساتھ استعمال کیے جا رہے ہیں۔اس دوران انہوں نے اہم تقرریاں بھی کیں۔
حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی، اپوزیشن کی بڑی جماعتیں — پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان تحریک انصاف، مسلم کانفرنس، اور جموں و کشمیر پیپلز پارٹی — اس معاملے پر خاموش ہیں، جسے ناقدین آئین کی واضح اور کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔ متنازعے قاےم مقام صدر کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔
یہ پہلی بار نہیں کہ آئین کی خلاف ورزی کی گئی ہو۔ ناقدین کے مطابق یہ ایک باقاعدہ رجحان بن چکا ہے۔ جب آئین کا کوئی حصہ سیاسی اشرافیہ کے مفادات کے آڑے آتا ہے تو اسے یا تو تبدیل کر دیا جاتا ہے یا نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
متنازع قائم مقام صدر جون 2023 کے آغاز میں متنازع حالات میں اسپیکر منتخب ہوئے۔ انہوں نے 53 رکنی ایوان میں صرف 19 ووٹ حاصل کیے، حالانکہ سادہ اکثریت کے لیے 27 ووٹ درکار تھے۔لیکن معاملات یہاں ختم نہیں ہوتے۔
20 اپریل 2023 کو آزاد جموں و کشمیر میں ایک اتحادی حکومت قائم ہوئی، جس کی قیادت پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کے رہنما چوہدری انوار الحق نے کی، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ حکومت کا حصہ تھیں۔چوہدری انوار الحق اسپیکر کے عہدے پر فائز تھے جب انہوں نے وزیر اعظم کے انتخاب میں حصہ لیا اور 53 رکنی اسمبلی میں 48 ووٹ حاصل کیے۔
وزیر اعظم کا حلف لینے کے بعد بھی وہ اسپیکر کے طور پر کام کرتے رہے اور اسی حیثیت میں اسمبلی کی کارروائی ملتوی بھی کی۔یہ آئینی خلاف ورزی خود اسمبلی کے اراکین نے ممکن بنائی، جھوں نے انہیں اس وقت ووٹ دیا جب وہ قائم مقام اسپیکر بھی تھے۔
آئین کی خلاف ورزی، نظر انداز کرنے یا اسے ذاتی و سیاسی فائدے کے لیے تبدیل کرنے کا سلسلہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔2018 میں آزاد جموں و کشمیر اسمبلی نے 13ویں ترمیم منظور کی، جس کے تحت مالی اختیارات جموں و کشمیر کونسل سے آزاد جموں و کشمیر حکومت کو منتقل کیے گئے — جس کا سیاسی اشرافیہ نے بڑے پیمانے پر جشن منایا۔اس ترمیم کے تحت وزراء کی تعداد 16 تک محدود کر دی گئی۔
تاہم جب اسی سیاسی اشرافیہ کو یہ پابندی غیر موزوں لگی تو قانون تبدیل کر کے یہ حد ختم کر دی گئی۔احتساب سے بچنے کے لیے 2020 میں اسمبلی نے احتساب بیورو کے قوانین میں بھی تبدیلیاں کیں، جس سے یہ ادارہ کمزور ہو گیا۔
2024 میں اسمبلی نے 1960 کے قانون کے سیکشن 505 میں ترمیم کی، جس کے تحت سیاسی نظام کو تنقید سے تحفظ دیا گیا۔ اس ترمیم کے ذریعے تنقید کو جرم قرار دیا گیا، جس کی سزا سات سال تک قید اور جرمانہ ہے۔
اپریل 2025 میں آزاد جموں و کشمیر کی اسمبلی نے “منول (دستور العمل)” کو قانونی حیثیت دی ، جس کے تحت اسمبلی اراکین کو لوکل گورنمنٹ کے ترقیاتی فنڈز پر کنٹرول جاری رکھنے اور استعمال کرنے کی اجازت دی گئی، حالانکہ ہائی کورٹ نے اس عمل کے خلاف فیصلہ دیا تھا — جس سے عوامی وسائل کے مسلسل غلط استعمال پر خدشات پیدا ہوئے۔
آزاد کشمیر میں اب بہت سے لوگ کہتے ہیں آئین کو ذاتی، سیاسی اور مالی مفادات کے تحفظ کے لیے تبدیل کیا جاتا یا پھر نظر انداز کیا جاتا ہے ، جس سے خطہ سر زمیں بے آئین بن گیا ہے۔
٭٭٭
Share this content:


