تبصرۂ کتاب: دزدِ نیم شب کا رقیب / مراد سعید/ فرحان طارق

تبصرۂ کتاب
کتاب: دزدِ نیم شب کا رقیب
مصنف: مراد سعید
تبصرہ نگار: فرحان طارق

مراد سعید کی تصنیف “دزدِ نیم شب کا رقیب” 384 صفحات پر مشتمل ایک مفصل کتاب ہے، جو اس وقت پاکستانی مارکیٹ میں باآسانی دستیاب نہیں۔ کتاب کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں مصنف نے ذاتی مشاہدات، سیاسی تجربات اور ملکی حالات کو یکجا کیا ہے۔

کتاب کا انتساب نہایت جذباتی اور علامتی انداز میں کیا گیا ہے۔ مصنف اسے اپنے “پہلے قاری” کے نام منسوب کرتے ہیںوہ شخصیت جس نے انہیں لکھنے کی تحریک دی۔ ساتھ ہی وہ اپنی ماں اور اُن بے شمار ماؤں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جن کی قربانیاں تاریخ کے رسمی بیانیوں میں جگہ نہیں پاتیں، مگر حقیقت میں وہی قوموں کی بنیاد ہوتی ہیں۔

پہلا حصہ: ہجرت، دہشتگردی اور ریاستی بیانیہ
کتاب کا پہلا حصہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے دور، فوجی آپریشنز اور ان کے اثرات کے گرد گھومتا ہے۔ مصنف کے مطابق یہ خطہ ایک طویل عرصے تک جنگ کی لپیٹ میں رہا، جہاں فوجی کارروائیاں بعض اوقات مسائل کے حل کے بجائے پیچیدگیوں میں اضافہ کرتی دکھائی دیں۔

مراد سعید قومی میڈیا پر بھی تنقید کرتے ہیں کہ کس طرح بعض تجزیہ کار متاثرہ افراد کو ہی مشکوک بنا کر پیش کرتے رہے۔ وہ وزیرستان، خیبر ایجنسی اور سوات میں جاری آپریشنز، مقامی مزاحمت اور حالات کی پیچیدگیوں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔

مصنف ان جنگوں کو “ڈالری جنگ” قرار دیتے ہوئے مؤقف اپناتے ہیں کہ اس نے مقامی آبادی کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا۔

سوات: امن سے انتشار تک
سوات کے حوالے سے کتاب میں ایک مکمل داستان بیان کی گئی ہے۔ مصنف یاد دلاتے ہیں کہ سوات کبھی ایک پُرامن سیاحتی علاقہ تھا، جہاں اسلحہ کلچر نہ ہونے کے برابر تھا۔ تاہم، صوفی محمد اور بعد ازاں ملا فضل اللہ کے ابھرنے کے بعد حالات یکسر بدل گئے۔

ابتدا میں صوفی محمد کو عوامی حمایت حاصل رہی، کیونکہ وہ فوری انصاف فراہم کرنے کے دعوے کرتے تھے۔ لوگ، جو برسوں عدالتوں کے چکر کاٹتے رہے، ان کے نظام سے متاثر ہوئے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہی نظام جبر میں بدل گیا،ٹی وی ڈش، لباس اور دیگر سماجی آزادیوں پر پابندیاں عائد ہوئیں اور بھتہ خوری عام ہو گئی۔

مصنف سوال اٹھاتے ہیں کہ:
صوفی محمد کو افغانستان جانے اور واپس آنے کی اجازت کیسے ملی؟
جب شدت پسندی بڑھ رہی تھی تو ریاست کہاں تھی؟
ملا فضل اللہ کے بڑھتے اثر و رسوخ کے باوجود کارروائی کیوں نہ ہوئی؟

آپریشنز اور انسانی المیہ
مراد سعید کے مطابق فوجی آپریشنز کے دوران عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ مارٹر گولے، فضائی حملے اور نقل مکانی نے ہزاروں خاندانوں کو اجاڑ دیا۔ وہ اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ متاثرین کے پیاروں کو بعض اوقات میڈیا پر دہشتگرد کے طور پر پیش کیا گیا۔

مصنف کے بقول، بعض مواقع پر طالبان اور سیکیورٹی فورسز کی چوکیاں آمنے سامنے ہونے کے باوجود کارروائیاں شہری آبادی پر ہوئیں، جس نے شکوک و سوالات کو جنم دیا۔

دوسرا حصہ: سیاسی تبدیلیاں اور سانحات
کتاب کے دوسرے حصے میں 2013 کے انتخابات کے بعد کے حالات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس میں سانحہ آرمی پبلک اسکول، وزیرستان کے عوام کے احتجاج، اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقاریر اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار میں تبدیلی جیسے موضوعات شامل ہیں۔

تیسرا حصہ: رجیم چینج اور پالیسی تبدیلیاں
تیسرے حصے میں “رجیم چینج” کے بیانیے، جنرل باجوہ کے مؤقف میں تبدیلی اور طالبان کو دوبارہ لانے کی کوششوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مصنف ان پالیسیوں کو تنقیدی نظر سے دیکھتے ہیں اور سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا یہ اقدامات ملک کے مفاد میں تھے یا نہیں۔

چوتھا حصہ: سائفر، سیاسی کشیدگی اور حالیہ واقعات
آخری حصہ حالیہ سیاسی واقعات پر مشتمل ہے، جن میں سائفر تنازع، حکومت کی تبدیلی، زمان پارک کے واقعات اور بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی شامل ہیں۔

حاصلِ کلام
“دزدِ نیم شب کا رقیب” محض ایک سیاسی کتاب نہیں بلکہ ایک بیانیہ ہےایسا بیانیہ جو ریاست، جنگ، سیاست اور عوام کے درمیان پیچیدہ تعلقات کو بیان کرتا ہے۔ مراد سعید نے اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں، جن کے جواب تلاش کرنا قاری پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

یہ کتاب اُن قارئین کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے جو پاکستان کی حالیہ سیاسی و سماجی تاریخ کو ایک مختلف زاویے سے سمجھنا چاہتے ہیں۔

٭٭٭

Share this content: