امریکی فوج کا بحری بیڑے ابراہم لنکن کی طرف پرواز کرنے والے ایرانی ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ

امریکہ کا کہنا ہے کہ طیارہ بردار بحری بیڑے ابراہم لنکن کی طرف پرواز کرنے والے ایک ایرانی شاہد-139 ڈرون کو امریکی ایف-35 لڑاکا طیارے نے نشانہ بنایا اور مار گرایا۔

امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ایئر کرافٹ کیریئر ابراہم لنکن کے ایک ایف-35 لڑاکا طیارے نے اپنے دفاع میں ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا تاکہ جہاز اور اس کے عملے کی حفاظت کی جا سکے۔‘

انھوں نے کہا کہ بحری جہاز ایرانی ساحل سے تقریباً 500 میل دور تھا جب ڈرون اس کی جانب آیا۔

کیپٹن ٹم ہاکنز کا مزید کہنا تھا کہ کسی امریکی سامان کو نقصان نہیں پہنچا اور کوئی فوجی زخمی نہیں ہوا۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت پر پیش آیا ہے جب سفارت کار ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کا انتظام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کے جنگی جہاز ایران کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ’خراب نتائج‘ سامنے آ سکتے ہیں۔

طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن نے 14 جنوری کو بحیرہ جنوبی چین سے مشرق وسطیٰ کے لیے اپنا سفر شروع کیا تھا اور مبینہ طور پر اب عمان کے ساحل کے قریب ہے۔

اس سلسلے میں وائٹ ہاؤس نے اپنا موقف سیتے ہوئے کہا کہ امریکی بحری بیڑے کے قریب پرواز کرنے والے ایرانی ڈرون کو ما گرائے جانے کے باوجود وِٹکوف کی ایرانیوں کے ساتھ ملاقات کے منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ ’اگرچہ سینٹ کام فورسز نے ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا جو طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کی جانب جا رہا تھا، امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف اس ہفتے کے آخر میں ایرانی حکام سے بات کریں گے۔‘

ایرانی ڈرون مار گرائے جانے کی خبر کے چند گھنٹے بعد، لیویٹ نے اے ایف پی کو بتایا: ’میں نے ابھی خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف سے بات کی ہے، اور بات چیت منصوبہ بندی کے مطابق جاری ہے۔‘

وائٹ ہاؤس کے ایک اور ترجمان نے کہا: ’صدر ٹرمپ ہمیشہ سفارت کاری کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں لیکن اس میں دونوں فریقوں کی سنجیدگی اور عزم ضروری ہے۔‘

Share this content: