لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو قتل کردیا گیا

لیبیا کے سابق رہنما کرنل معمر قذافی کے بیٹے سيف الاسلام قذافی کو مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا ہے۔

ان کی عمر 53 برس تھی اور انھیں طویل عرصے تک اپنے والد کے بعد ملک کی سب سے بااثر شخصیت سمجھا جاتا تھا۔

لیبیا نیوز ایجنسی کے مطابق ان کی موت کی تصدیق منگل کے روز ان کی سیاسی ٹیم کے سربراہ نے کی ہے۔ ان کے وکیل نے بتایا کہ ایک چار رکنی کمانڈو یونٹ نے زنتان شہر میں ان کے گھر پر حملہ کیا، تاہم حملہ آوروں کی شناخت واضح نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب ان کی بہن نے دعویٰ کیا کہ وہ الجزائر کی سرحد کے قریب ہلاک ہوئے۔

1972 میں پیدا ہونے والے سيف الاسلام نے 2000 سے لے کر قذافی حکومت کے خاتمے تک مغرب کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

تاہم 2011 میں اپنے والد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ان پر حکومت مخالف مظاہروں کو کچلنے میں مرکزی کردار ادا کرنے کا الزام لگا۔

انھیں زنتان میں ایک حریف ملیشیا نے تقریباً چھ سال تک قید رکھا۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے ان پر انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ چلانے کی کوشش کی، جبکہ 2015 میں طرابلس کی ایک عدالت نے انھیں غیر حاضری میں سزائے موت سنائی۔ دو سال بعد انھیں مشرقی شہر طبرق میں ایک عام معافی کے قانون کے تحت رہا کر دیا گیا۔

قذافی کے زوال کے بعد سے لیبیا مختلف ملیشیاؤں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں تقسیم ہے اور فی الحال دو حریف حکومتوں کے درمیان بٹا ہوا ہے۔

سيف الاسلام نے 2021 میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا، تاہم یہ انتخابات غیر معینہ مدت تک مؤخر کر دیے گئے۔

Share this content: