عوامی حقوق کی تحریک پرانی شاہراہ یا نیا موڑ؟ ۔۔۔ فرحان طارق

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں 2023 سے جنم لینے والی عوامی حقوق کی تحریک محض آٹے اور بجلی کے نرخوں کا شکوہ نہیں تھی، یہ دراصل ستر برس سے جمع ہوتے غصے، محرومی اور استحصال کا اجتماعی اظہار تھی۔ ایک ایسا غصہ جو خاموشی سے پک رہا تھا اور بالآخر سڑکوں پر آ نکلا۔

اگر اس تحریک کو ماضی کے آئینے میں دیکھا جائے تو یہ کسی اچانک ابھرنے والی لہر کا نام نہیں، بلکہ اس خطے میں رائج اس نظام کے خلاف فطری ردِعمل تھا جس نے عوام کو ہمیشہ نعروں کے سہارے زندہ رکھا اور حقوق کو وعدوں کی فائلوں میں دفن کیا۔

ماضی میں یہاں کی ہر تحریک کا مرکز مقبوضہ کشمیر کی آزادی رہا۔

“چلو چلو سری نگر چلو”
یہ نعرہ صرف ایک سیاسی جملہ نہیں بلکہ ستر سالہ نحوست زدہ سیاست کا خلاصہ تھا۔ مگر 2019 میں جب آرٹیکل 370 اور 35-A کی منسوخی پر پاکستانی مقتدرہ اور مقامی سیاسی اشرافیہ نے اجتماعی خاموشی اختیار کی، تو سری نگر کی گردان پہلی بار عوامی غصے میں تبدیل ہوئی۔ وہ غصہ جو نعروں سے سوالات کی طرف بڑھنے لگا۔

چار سال بعد، 2023 میں، جب غربت، بے روزگاری اور مہنگائی نے زندگی کو محض سانسوں تک محدود کر دیا، تو عوام نے پہلی بار اپنے مشترکہ حقوق کی بات کی۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) اسی شعور کی پیداوار تھی۔

آٹے پر سبسڈی، بجلی کے نرخ، اور سول نافرمانی—یہ سب اس خطے کی تاریخ میں ایک نیا سیاسی لہجہ تھا۔

بجلی کے بل جلانا صرف احتجاج نہیں تھا، یہ اعلان تھا کہ عوام اب پرانی اطاعت پر تیار نہیں۔

9 مئی 2024 وہ دن تھا جب بھمبر سے مظفرآباد کی جانب بڑھتا مارچ ایک قافلہ نہیں رہا، بلکہ ایک پیغام بن گیا۔ پونچھ میں داخل ہوتے ہی مقامی سیاست دانوں اور مقتدر حلقوں کا گھٹنے ٹیک دینا اس بات کا اعتراف تھا کہ طاقت کا سرچشمہ واقعی عوام ہے ۔

شاید پہلی بار اور شاید آخری بار۔آٹے اور بجلی کے مطالبات مان لیے گئے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا تحریک یہیں ختم ہو جانی تھی؟۔۔۔۔اسی مقام سے کہانی نے نیا موڑ لیا۔۔۔۔مطالبات بڑھنے لگے، سمت دھندلانے لگی۔

بی بی سی سے وابستہ سینئر صحافی ذوالفقار علی کے مطابق، “حضرت بل میں نمازِ جمعہ، سری نگر میں عید، اور لال چوک میں سبز پرچم” کی روایت دہائیوں پرانی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا آج کی تحریک بھی اسی روایت کا تسلسل ہے، یا اس کا انکار؟

پاکستانی کشمیر کی سیاسی اشرافیہ گزشتہ ستر برس سے اس چار ہزار مربع میل خطے کو پوری منقسم ریاست کا نمائندہ قرار دیتی آئی ہے۔

آزادی کا بیس کیمپ یہ نعرہ آج بھی زندہ ہے، مگر اس کے سائے میں عوام کے بنیادی حقوق ہمیشہ ثانوی رہے۔

4 اکتوبر 2025 کو وفاقی وزرا اور کشمیر حکومت کے ساتھ 38 مطالبات کو لے کر معاہدہ ہوا، جس پر JAAC کے مطابق آج تک عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا، اس نے عوامی حلقوں میں نئے سوالات جنم دیے۔

ایک طرف ایکشن کمیٹی خود کو غیر سیاسی اور خالص عوامی حقوق کی تحریک قرار دیتی ہے، دوسری طرف وہ اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ سے ہٹ کر ایک سیاسی قیدی کی رہائی کی جدوجہد میں مصروف نظر آتی ہے۔

ایک ایسا قیدی جس کی جماعت پر خود ایکشن کمیٹی کے اسٹیج کے استعمال پر پابندی ہے۔یہ تضاد محض اتفاق نہیں، یہ بحرانِ سمت ہے۔

جب ایک طرف حقِ ملکیت اور حقِ حکمرانی کی بات کی جائے، اور دوسری جانب اسی خطے کو “آزادی کا بیس کیمپ” کہا جائے، تو سوال پیدا ہوتا ہے:

کیا یہ دو بیانیے ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟

29 ستمبر کے واقعات کے ملزمان آج بھی آزاد ہیں۔یہاں کا خون سستا کیوں ہے؟جنہیں کل مجرم کہا جا رہا تھا، آج انہی کی راہ پر چلنا کس مجبوری کا نام ہے؟

رحجانی لکیر صاف دکھائی دیتی ہے۔اسکرپٹ وہی ہے،پرومٹر وہی، بس مکالمے پڑھنے والے بدل چکے ہیں ۔سوال یہ نہیں کہ تحریک زندہ ہے یا نہی۔۔سوال یہ ہے کہ یہ کس کے راستے پر چل پڑی ہے؟۔۔کیا یہ واقعی ایک نئی تاریخ لکھنے جا رہی ہے؟۔۔۔یا پھر وہی پرانی شاہراہ ہے۔۔جہاں منزل نہیں۔۔۔صرف نعروں کی گونج باقی رہ جاتی ہے۔

٭٭٭

Share this content: