لاہور کی فضاؤں میں 25 سال بعد ایک بار پھر رنگ برنگی پتنگیں لہرانے کو تیار ہیں، تاہم اس بار بسنت کا تہوار سخت حفاظتی انتظامات اور ضابطوں کے ساتھ منایا جائے گا۔ حکومتِ پنجاب نے 6، 7 اور 8 فروری کو لاہور میں ’محفوظ بسنت‘ منانے کی اجازت دے دی ہے، جس کے لیے شہر کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق بسنت کے موقع پر امن و امان اور مذہبی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے شہر بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ اس دوران ایسی پتنگوں کی تیاری اور اڑانے پر مکمل پابندی ہو گی جن پر مقدس کتب، مذہبی مقامات، سیاسی شخصیات یا کسی ملک کے جھنڈے کی تصاویر بنی ہوں۔ حکام کے مطابق صرف سادہ یا رنگین پتنگیں اڑانے کی اجازت ہو گی۔
بسنت کے دوران خونی ڈور کے استعمال کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم کے مطابق ’کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025‘ کے تحت دھاتی تار اور کیمیکل ڈور پر مکمل پابندی ہے، جبکہ اب تک کریک ڈاؤن کے دوران 1600 سے زائد مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ شہریوں خصوصاً موٹر سائیکل سواروں کے تحفظ کے لیے بائیکس پر سیفٹی راڈز لگانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
فضائی آمدورفت کو محفوظ بنانے کے لیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے اطراف کے علاقوں میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر لاہور کے مطابق بھٹہ چوک، ڈی ایچ اے کے مختلف بلاکس، گلشن علی کالونی اور تاج پورہ سمیت دیگر حساس علاقوں میں پتنگ اڑانے کی اجازت نہیں ہو گی۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ بسنت کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے لاہور کے 13 بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ 1200 سے زائد ڈاکٹرز اور ریسکیو اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں 56 ایمبولینسز اور 300 ریسکیو موٹر بائیکس تعینات کی گئی ہیں۔
سکیورٹی کے حوالے سے لاہور کو تین زونز میں تقسیم کیا گیا ہے جہاں 10 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات ہوں گے۔ سی سی ٹی وی کیمروں کے ساتھ جدید ڈرونز کے ذریعے بھی نگرانی کی جائے گی، جبکہ ہوائی فائرنگ اور اسلحے کی نمائش پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
پنجاب حکومت کے مطابق بسنت کی واپسی کا مقصد شہریوں کو ان کا ثقافتی تہوار واپس دینا ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار عوام کے تعاون اور حکومتی ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد پر ہو گا۔
Share this content:


