پاکستانی کشمیر میں زخمی تیندوا جانبر نہ ہو سکا

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے مسلم آباد میں پہاڑی سے گر کر شدید زخمی ہونے والا ایک نایاب تیندوا تمام تر کوششوں کے باوجود جانبر نہ ہو سکا۔ ایک مقامی شہری کی جانب سے اس کی جان بچانے کی دلیرانہ اور انسان دوست کوشش نے عوام اور محکمہ وائلڈ لائف کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

مسلم آباد کے رہائشی محمد حسین نے بتایا کہ انھوں نے پہاڑ کے دامن میں ایک زخمی تیندوے کو بے بسی کی حالت میں دیکھا جو شدید سردی کے باعث نڈھال تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’میری نظر پڑتے ہی مجھ سے رہا نہ گیا، میں نے فوراً اپنی چادر اس پر ڈال دی تاکہ اسے کچھ گرمائش مل سکے۔ قریب جا کر اٹھانے کی کوشش کی مگر اس کے جسم کا ایک حصہ ٹوٹا ہوا تھا۔‘

محمد حسین کے مطابق جب تیندوا موقع پر سنبھل نہ سکا تو انھوں نے دوستوں کو مدد کے لیے بلایا۔ دوستوں کی مدد سے اسے چارپائی پر ڈال کر گھر منتقل کیا تاکہ سردی سے بچایا جا سکے اور فوری مدد فراہم کی جا سکے۔

انھوں نے بتایا کہ ’میں چاہتا تھا وہ کسی بھی طرح بچ جائے کیونکہ مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ کئی روز سے زخمی حالت میں برف میں پھنسا رہا ہے۔‘

محمد حسین نے تیندوے کو دیسی گھی اور خوراک دینے کے ساتھ آگ کے قریب رکھا اور پولیس کو اطلاع دی تاکہ متعلقہ ادارے اسے ہسپتال منتقل کر سکیں۔

محکمہ وائلڈ لائف کے ڈویلپمنٹ افسر فیصل امتیاز نے بتایا کہ اطلاع ملتے ہی ٹیم گاؤں روانہ ہوئی۔ ان کے مطابق جب ٹیم موقع پر پہنچی تو تیندوا ایک کمرے میں گرم کمبل میں لپٹا ہوا تھا۔ اسے فوری طور پر گاڑی میں منتقل کر کے طبی مرکز لے جایا جا رہا تھا تاہم شدید زخمی ہونے کے باعث وہ طبی مرکز کے قریب پہنچتے ہی دم توڑ گیا۔

فیصل امتیاز نے کہا کہ ابتدائی مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ تیندوا پہاڑی سے گرنے کے باعث شدید زخمی ہوا تھا۔ اس کے جسم کا ایک حصہ ٹوٹ چکا تھا جبکہ طویل وقت تک برف میں پڑے رہنے کے سبب وہ انتہائی کمزور ہو گیا تھا۔ تیندوے کا پوسٹ مارٹم کر لیا گیا ہے اور چند روز میں رپورٹ موصول ہونے کے بعد اس کے زخمی ہونے کی حتمی وجوہات سامنے آ سکیں گی۔

انھوں نے مقامی شہری محمد حسین کے جذبۂ ہمدردی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی مثالیں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں، جہاں ایک عام شہری اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر جنگلی حیات کو بچانے کی کوشش کرے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ عمل انسان اور جنگلی حیات کے درمیان ہمدردی کے رشتے کو مضبوط کرتا ہے۔ اگر مقامی افراد جنگلی حیات کا خیال رکھیں تو اس سے کافی بہتری آ سکتی ہے۔ جس طرح محمد حسین نے تیندوا کو ایک مشکل جگہ سے اٹھا کر گھر منتقل کیا، ایسی مثالیں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں۔‘

مقامی شہری محمد حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے افسوس ہے کہ میں اس تیندوا کی جان نہیں بچا سکا۔ اگر مجھے یہ زخمی ہونے کے فوری بعد مل جاتا تو میں بروقت بچانے کی کوشش کرتا۔‘

Share this content: