گلگت/ کاشگل نیوز
ٹیچرز کوارڈینیشن کمیٹی گلگت بلتستان کے ترجمان دلاور شاہ نے کہا ہے کہ 1993 کے رول کے مطابق جس طرح 700 اساتذہ کو سکیل 16 دیا گیا ہے۔ اسطرح باقی ماندہ اساتذہ کو بی ایڈ پاسنگ سے پروموشنز دینا ادارے پر لازم ھو چکا ہے ، اس کو نظرانداز کرنا نظام تعلیم کو بری طرح متاثر کرنے کے مترادف ہوگا ۔ تاخیری حربے استعمال کرنے سے ون پوائنٹ کا حل نہیں ہے اس پر عمل درآمد کرنے کے علاوہ اور کوئی حل نہیں ہے اس میں مزید تاخیر سے اساتذہ کے اندر تشویش بڑھتی جا ئیگی اور یہ لاوہ ایک دن پھٹ جائے گا جس سے محکمے تعلیم کی بدنامی کے ساتھ ساتھ تعلمی عمل بھی بری طرح متاثر ہوگا۔ اس سے قبل کی اساتذہ پھر سے سخت اقدام اٹھانے پر مجبور ہوںاور پورا نظام تعلیم درہم برہم ھو ادارہ فی الفور ون پوائنٹ ایجنڈہ پر عمل درآمد کر کے اساتذہ کے اندر پائی جانے والی تشویش کا ازالہ کیا جائے۔
ان خیالات کا اظہار ٹیچرز کواڈینیشن کمیٹی گلگت بلتستان کے وائس چیئرمین وسیداللہ نے اپنا ایک بیان میں کیا ۔
انہوں نے مزید کہا وزیراعلی گلگت بلتستان کے نوٹیفکیشن کو 2 مہنے گزر گئے ہیں تاحال اس پر عمل درآمد نہ ھونا سمجھ سے بالاتر ھے ۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے نوٹیفکیشن جاری کر دینے کے بعد بھی ٹیچرز کواڈینیشن کمیٹی گلگت بلتستان کے نمائندوں نے نگراں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان چیف سیکرٹری سیکرٹری سکولز ایجوکیشن گلگت بلتستان اور الیکشن کمشنر تک ملاقات کرکے سب کو صورت حال سے آگاہ کرکے حجت تمام کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب اساتذہ کے پاس اپنے جائز حقوق کے حصول کے لئے ایک ہی راستہ بچا ھے جو کہ ہم نہیں چاہتے ہیں ۔کہ سکولوں کے تالے لگا کر ایک بار پھر روڑ پر دھرنا دے دیں جس سے پورا نظام تعلیم بری طرح متاثر ھو۔اس لئے بہتر یہی نہیں ھے کہ بھروقت ہی اس پر عمل درآمد کیا جائے کیونکہ ون پوائنٹ ایجنڈہ پر ہر قیمت پر عمل درآمد تو کرنا ھے تو کیا یہ ضروری ھے کہ اساتذہ کو ہر جائز حق کے لیے روڑ پر لایا جائے ۔ادارے کے ساخت کو بھی خراب کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ادارے کے ساخت کو نقصان پہنچتا ھے یا تعلیمی نظام متاثر ھوتا ھے تو اس کے ذمدار اساتذہ نہیں ہیں بلکہ حکام بالا اس کے ذمدار ھونگے۔ کیونکہ 1993 کی پالیسی اور وزیر اعلی گلگت بلتستان کے واضح احکامات کے باوجود تاخیری حربوں کا استعمال جان بوجھ اساتذہ کو روڑ پر لا کر احتجاج کرنے پر مجبور کر نے کے مترادف ھے ۔ اور اساتذہ کے پاس بھی یہی ایک راستہ رہتا ھے کہ اپنے جائز حقوق کے حصول کے لئے ہر حد تک جانے میں حق بجانب ھونگے اس کی تمام تر ذمداری حکام بالا پر عائد ھوگی۔
لہذا ٹیچرز کواڈینیشن کمیٹی گلگت بلتستان حکام بالا سے پرزور مطالبہ کرتی ھے کہ جلد از جلد ون پوائنٹ ایجنڈہ پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ اساتذہ کے اندر پائی جانے والی تشویش کا ازالہ ھوسکے۔
Share this content:


