مقبول بٹ شہید کے افکار! نظریاتی ورثہ اور عملی سیاست کا تقاضا۔۔۔ خواجہ کبیر احمد

ریاست جموں کشمیر کی سیاسی تاریخ میں مقبول بٹ ایک نمایاں اور متنازع مگر اثر انگیز نام کے طور پر سامنے آتے ہیں۔

ان کی جدوجہد اور فکر نے نہ صرف ایک مخصوص سیاسی دھارے کو جنم دیا بلکہ آزادی، خودمختاری اور سیکولر ریاستی تصور کو ایک منظم نظریاتی شکل بھی دی۔ تاہم سوال یہ ہے کہ ان کے افکار آج کی عملی سیاست میں کس حد تک مؤثر اور قابلِ عمل ہیں؟

تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں خطے کی سیاست سرد جنگ، علاقائی کشیدگی اور نوآبادیاتی اثرات کے تناظر میں تشکیل پا رہی تھی۔ اس ماحول میں مقبول بٹ نے ایک آزاد اور خودمختار جموں کشمیر کا نظریہ پیش کیا، جو نہ پاکستان کے ساتھ الحاق پر مبنی تھا اور نہ بھارت کے ساتھ انضمام پر۔ یہ مؤقف اس وقت کے غالب بیانیوں سے مختلف تھا اور اسی بنا پر اسے دونوں جانب سے ہی نہیں بلکہ ریاست کے اندر بھی شدید ردعمل کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ان کی فکر کی بنیاد تین نکات پر ہے ،ریاستی قومی خودمختاری،عوامی حاکمیت،سیکولر و جمہوری طرزِ حکمرانی! یہ نکات آج بھی ریاستی سیاست کے ایک حصے میں حوالہ کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔

تاہم سیاسی نظریات اپنی اصل صورت میں جامد نہیں رہتے، انہیں حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑتا ہے۔ موجودہ عالمی منظرنامہ 1960 کی دہائی سے یکسر مختلف ہے۔ عالمی سفارت کاری، انسانی حقوق کی سیاست، علاقائی معیشت اور ڈیجیٹل ابلاغ،یہ تمام عوامل جدوجہد کے طریقۂ کار کو متاثر کر چکے ہیں۔

یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا نظریاتی وابستگی کو عملی سیاسی حکمتِ عملی میں تبدیل کرنے کے لیے درکار ادارہ جاتی ڈھانچہ، قیادت کا تسلسل اور داخلی اتحاد موجود ہے؟تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے بڑی رکاوٹ نظریاتی اختلاف نہیں بلکہ تنظیمی تقسیم، قیادت کے تنازعات اور حکمتِ عملی پر عدم اتفاق ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مقبول بٹ کے افکار میں موجود "اجتماعی مقصد” کا تصور دوبارہ اہم ہو جاتا ہے۔

اتحاد سیاسی تحریکوں میں محض جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک اسٹرکچرل ضرورت ہوتا ہے۔ دنیا کی متعدد قومی تحریکوں کی مثالیں بتاتی ہیں کہ داخلی تقسیم تحریک کی اخلاقی اور سفارتی طاقت کو کمزور کر دیتی ہے۔لیکن اتحاد کا مطلب نظریاتی یکسانیت نہیں ہوتا۔ ایک بالغ سیاسی تحریک اختلافِ رائے کو برداشت کرتے ہوئے بھی مشترکہ ہدف پر متفق رہ سکتی ہے۔ مقبول بٹ کی فکر میں بھی یہی پہلو نمایاں ہے کہ اصل مقصد ریاستی آزادی اور عوامی خودمختاری ہے، نہ کہ شخصیات کی برتری۔

غیر جانبدارانہ تجزیہ یہ بھی تقاضا کرتا ہے کہ سوال اٹھایا جائے۔کیا ماضی کی حکمتِ عملی آج کے حالات میں مؤثر ہو سکتی ہے؟کیا عسکری یا سخت مزاحمتی بیانیہ عالمی سفارتی حمایت حاصل کرنے میں معاون ہے یا رکاوٹ؟کیا سیاسی مکالمہ، جمہوری جدوجہد اور انسانی حقوق کی بنیاد پر کیس پیش کرنا زیادہ مؤثر راستہ ہو سکتا ہے؟یہ وہ مباحث ہیں جن پر سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے۔ نظریاتی احترام اپنی جگہ، مگر عملی سیاست میں نتائج کا پیمانہ حکمتِ عملی کی افادیت سے طے ہوتا ہے۔اگر مقبول بٹ کے افکار کو محض تاریخی حوالہ نہیں بلکہ عملی رہنمائی سمجھا جائے تو اس کے لیے چند عناصر ناگزیر ہیں۔جیسے داخلی تنظیمی استحکام،واضح اور قابلِ عمل سیاسی روڈ میپ،بین الاقوامی سفارتی حکمتِ عملی،عوامی شرکت اور شفاف قیادت۔ ان عناصر کے بغیر کوئی بھی نظریہ علامتی سطح سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔

مقبول بٹ کا نام ایک نظریاتی حوالہ ہے، ان کی فکر ایک سیاسی سمت فراہم کرتی ہے۔ تاہم موجودہ دور میں اصل چیلنج نظریے کی تجدید اور اس کی عملی تشکیل ہے۔ اتحاد اگر اصولی اور ادارہ جاتی بنیادوں پر استوار ہو تو مؤثر ہو سکتا ہے؛ محض جذباتی اپیل کے طور پر نہیں۔سیاسی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ نظریات زندہ رہتے ہیں، مگر وہی نظریات کامیاب ہوتے ہیں جو خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے، کیا نظریاتی وابستگی کو عملی حکمتِ عملی میں بدلا جا سکتا ہے اور کیسے؟ اس کا جواپ تو مقبول بٹ شہید کو قومی ہیرو اور قائد و راہبر ماننے والے ہی دے سکتے ہیں تاہم یہی بحث آج کی کشمیری قوم پرست سیاست کا مرکزی نکتہ بن جائے تو شاید کوئی امید کی شمع روشن ہو سکے۔

Share this content: