اسلام آباد/مظفرآباد/خصوصی رپورٹ کاشگل نیوز
پاکستانی جموں کشمیر کےادارہ احتساب نے ریاست کے 4 سابق وزراء اور ممبران قانون ساز اسمبلی کی جانب سے خلافِ ضابطہ سرکاری گاڑیاں واپس نہ کرنے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے پولیس کے ذریعے فوری ریکوری کا حکم دے دیا ہے۔
محتسب سیکرٹریٹ کی جانب سے جموں و کشمیر پولیس کے آئی جی کے نام جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ گاڑیوں کی واپسی کے لیے محتسب نے محتسب ایکٹ 1992ء کی دفعہ 9(1) کے تحت ازخود نوٹس لیا ہے۔ مراسلے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متعدد سرکاری گاڑیاں بااثر شخصیات کی غیر قانونی تحویل میں ہیں۔
نوٹس کے مطابق ممبر قانون ساز اسمبلی عالم شریف بٹ فارچونر نمبر MDGA-038، کوثر تقدیس گیلانی فارچونر MDDA-941 اور ٹویوٹا گرینڈی MDGD-555 اپنے زیرِ استعمال رکھے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ممبر اسمبلی جاوید بٹ فارچونر MDGC-555 جبکہ محمد اکبر ابراہیم پراڈو نمبر MDGA-811 خلاف ضابطہ استعمال کر رہے ہیں۔
مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹرییشن کی جانب سے ان گاڑیوں کی واپسی کے لیے باقاعدہ نوٹس بھی جاری کیے جا چکے ہیں، تاہم متعلقہ افراد نے تاحال گاڑیاں سنٹرل ٹرانسپورٹ پول کے حوالے نہیں کیں۔
حکومت جموں و کشمیر کے محتسب نے اس صورتِ حال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ غیر قانونی تحویل میں رکھی گئی سرکاری گاڑیاں پولیس کے ذریعے فوری طور پر تحویل میں لے کر سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (سنٹرل ٹرانسپورٹ پول) میں جمع کروائی جائیں اور ایک یوم میں تعمیلی رپورٹ پیش کی جائے۔
یاد رہے کہ مذکورہ چاروں اراکین سابق وزیر اعظم چوہدری انوار الحق کی کابینہ کا حصہ رہ چکے ہیں۔ تحریکِ عدم اعتماد کے بعد فیصل راٹھور کے دورِ حکومت کو دو ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، تاہم سابق وزراء کی جانب سے سرکاری گاڑیوں کی عدم واپسی پر انتظامی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
Share this content:


