کشمیر کے جنوبی قصبہ کشتواڑ میں پانچ ہفتے قبل مسلح شدت پسندوں کے خلاف جو فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا اس میں بالآخر فوج نے اتوار کی شام کو دعویٰ کیا ہے تازہ جھڑپ میں کالعدم مسلح تنظیم جیش محمد کے مبینہ اعلیٰ کمانڈر سمیت تین شدت پسندں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
مسلح جھڑپوں اور شدت پسندوں کو تلاش کرنے کے لیے وسیع پیمانے کا آپریشن ابھی بھی جاری ہے کیونکہ فوج کا دعویٰ ہے کہ مزید دو مسلح شدت پسند اب بھی دشوار گذار جنگلاتی علاقے کے پہاڑی درّوں میں چھپے ہیں۔
فوج، نیم فوجی دستوں اور جموں کشمیر پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ کا یہ مشترکہ آپریشن جنوری میں شروع کیا گیا تھا، جس کے دوران اب تک چھ مرتبہ فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ ان جھڑپوں کے دوران فوج کا ایک پیراکمانڈو اور سپیشل آپریشن گروپ کا ایک اہلکار ہلاک اور کئی دیگر اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
انڈین فوج کی شمالی کمان کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرل پراتیک شرما نے آپریشن میں شامل فورسز کو مبارکباد دیتے ہوئے اس کارروائی کو ’درست اور انتہائی پیشہ ورانہ اقدام‘ قرار دیا۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کشتواڑ کے چھاترو قصبہ کے پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں سنگھ پورہ، جانیسر، دولگام، اور پسیر کوٹ میں گذشتہ دو سال کے دوران دو درجن مسلح جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں فوج کو جانی نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔ گذشتہ جنوری میں فوج نے مقامی فورسز کے ساتھ مل کر ان علاقوں میں مشترکہ آپریشن شروع کیا جس کے دوران انٹرنیٹ کو معطل کیا گیا۔
فوج کی وائٹ نائٹ کور نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا: ’پولیس، انٹیلی جنس بیورو اور ملٹری انٹیلی جنس سے ملی خفیہ اطلاعات کے بعد کشتواڑ میں آپریشن تراشی ون شروع کیا گیا تاکہ وہاں چھپے عسکریت پسندوں کا سراغ لگا کر انھیں ختم کیا جاسکے۔‘
فوج کا کہنا ہے کہ آپریشن میں کئی ہفتوں بعد ملی کامیابی میں کالعدم تنظیم کے اعلیٰ کمانڈر سمیت تین شدت پسند مارے گئے ہیں۔ فوجی ذرائع کے مطابق شدت پسند پسیر کوٹ کے جنگلاتی علاقے میں مٹی کے ایک ڈھوک میں چھپے ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ 2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد مسلح شدت پسندی وادی کشمیر سے جموں کے پہاڑی اور جنگلاتی خطوں میں منتقل ہوگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فوج، پولیس اور نیم فوجی اداروں کی انسدادی کارروائیوں کا بنیادی ہدف بھی اب وادی کی بجائے جموں کے کشتواڑ، کٹھوعہ، ریاسی، ڈوڈہ، اُدھم پور ، راجوری اور پونچھ کے جنگلاتی اور پہاڑی علاقے ہیں۔
دریں اثنا آسام میں ایک تقریب کے دوران انڈیا کے وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ جموں کشمیر میں نیم فوجی ادارہ سینٹرل ریزرو پولیس فورس یا سی آر پی ایف کے شاندار کارکردگی کے باعث مکمل امن بحال ہوگیا ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا،’آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد گزشتہ سات برسوں کے دوران پتھراؤ کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور فورسز کو ایک بھی گولی چلانا نہیں پڑی ہے۔
انھوں نے انڈیا کی شمال مشرقی ریاستوں اور وسطی انڈیا میں نکسل عسکریت پسندی کو انڈیا کی داخلی سکیورٹی کے حوالے سے تین ’ہاٹ سپارٹس‘ قرار دیا اور کہا کہ تینوں مقامات پر فورسز نے امن بحال کیا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ مارچ تک نکسل عسکریت کو انڈیا سے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔
Share this content:


