معاشرے کی سب سے مضبوط دیواریں اینٹ اور پتھر کی نہیں ہوتیں، یہ وہ غیر مرئی حدیں ہیں جو ہم بچپن سے ذہنوں میں کھینچ دیتے ہیں۔ جب ایک بچی کہتی ہے "میں بڑی ہو کر پائلٹ بنوں گی”، تو جواب ملتا ہے: "لڑکیاں جہاز نہیں اڑاتیں”۔ ایک جملہ جو خوابوں کو اڑنے سے پہلے ہی زمین پر گرا دیتا ہے۔
یہ دیواریں ہمارے روزمرہ کے رویوں سے بنتی ہیں۔ لڑکا روئے تو "بہادر بنو”، لڑکی ہنسے تو "تمیز سے بیٹھو”۔ لڑکا سوال کرے تو "ذہین بچہ ہے” لڑکی سوال کرے تو "زبان چلاتی ہے”۔ یوں بچپن ہی میں پیغام دے دیا جاتا ہے کہ تمہارے پر چھوٹے ہیں تمہارا آسمان نیچا ہے۔
آج کی عورت دفتر جاتی ہے معیشت میں حصہ لیتی ہے، مگر گھر لوٹتے ہوئے بھی محفوظ محسوس نہیں کرتی۔ وہ نوکری بھی کرتی ہے اور سماجی الزام بھی سہتی ہے۔ سعدی نے کہا تھا مگر ہم نے آدھے جسم کو گھر میں قید کر دیا اور آدھے کو کھلی آزادی دے دی۔ پھر اس قید میں رکھے ہوئے حصے سے پوچھا: "تم لنگڑا کر کیوں چلتی ہو؟
ٹیکنالوجی نے بھی یہ دہرا معیار برقرار رکھا ہے۔ لڑکے کی تصویر وائرل ہو تو meme بنتی ہے لڑکی کی تصویر لیک ہو تو کردار پر سوال اٹھتا ہے۔ لڑکا رات گئے تک جاگے تو "cool” کہلاتا ہے لڑکی رات کو کتاب پڑھے تو "باغی” قرار پاتی ہے۔ منٹو کا جملہ آج بھی زندہ ہے: عورت کو ہم نے انسان سمجھا ہی نہیں۔
بازار میں "خواتین کا احترام کریں” کے بورڈ خود اس بات کا اعتراف ہیں کہ احترام موجود نہیں ورنہ لکھنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ اسپتال میں مریض "لیڈی ڈاکٹر” ڈھونڈتے ہیں گویا مرد ڈاکٹر سے علاج کے دوران بھی ایک غیر مرئی دیوار بیچ میں کھڑی رہتی ہے۔ اسکول دفتر، عدالت اور گلی کے نکڑ پر ہر جگہ ایک ہی سوال گونجتا ہے: کیا یہ جگہ تمہاری بھی ہے؟
غالب نے کہا تھا "بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا”۔ عورت کے لیے پڑھنا دشوار، کمانا دشوار، جینا دشوار۔ اور مرنا بھی آسان نہیں رہا۔ غیرت کے نام پر قتل جہیز کے لیے تشدد، خاموشی کے نام پر دباؤ سب کچھ اسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ عورت کا رونا "ڈرامہ” ہے اور مرد کا غصہ "حق”۔
بلھے شاہ نے پوچھا تھا کہ اصل فرق کیا ہے؟ فرق یہ ہے کہ مرد کی غلطی کو "غلطی” کہہ کر معاف کر دیا جاتا ہے، جبکہ عورت کے وجود ہی کو سوال بنا دیا جاتا ہے۔ ایک لفظ ایک اشارہ ایک افواہ اس کی ساری زندگی کی محنت مٹی میں ملا دیتی ہے۔
یہ دیواریں تب گریں گی جب ہم بیٹے کی تربیت بھی اتنی ہی کریں جتنی بیٹی کی کرتے ہیں۔ جب ہم لڑکے کو سکھائیں کہ "نا” کا مطلب "نا” ہوتا ہے اور عزت دوپٹے میں نہیں نگاہ میں ہوتی ہے۔ اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ ہم انصاف کو صنف سے الگ کر دیں۔ کسی کی عزت اس لیے کریں کہ وہ انسان ہے، نہ کہ اس لیے کہ وہ ہمارا رشتہ دار ہے۔
کاش ہماری بیٹیاں یہ نہ پوچھیں کہ "کیا میں پائلٹ بن سکتی ہوں؟” بلکہ پوچھیں: "میں کون سا جہاز اڑاؤں؟” کاش ہمارے بیٹے یہ نہ سوچیں کہ "لڑکیوں کو اجازت دینی چاہیے یا نہیں”۔۔۔ بلکہ سوچیں: "میں اس کے خواب میں کیسے شریک ہو سکتا ہوں؟”
آسمان سب کا ہے ہوا سب کے لیے چلتی ہے، روشنی کسی ایک گھر کی میراث نہیں۔ اڑنا ہر انسان کا حق ہے۔ دیواریں تب گرتی ہیں جب دل بدلتے ہیں، اور دل تب بدلتے ہیں جب ضمیر جاگتا ہے۔
شاید یہ سطور کسی بے حس ضمیر کے بند دروازے پر ہلکی سی دستک بن جائیں، اور وہ دستک دل کی گہرائیوں تک اتر کر انسانیت کو جگا دے۔
دیوارِ جہل گرے گی جب ضمیر جاگے گا
ہر خوابِ خواتیں کا آسمان چھا جائے گا
٭٭٭
Share this content:


