انڈین بری فوج کے لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی نے جمعرات کو آپریشن سندور کو ایک برس مکمل ہونے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گا اور اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’بھاری نقصان اٹھانے کے بعد مخالف فریق کو ہوش آیا اور اس نے جنگ بندی کی درخواست کی۔ جب یہ درخواست آئی تو ہم نے کارروائیاں روک دیں۔ ہم پیچھے ہٹے لیکن ہم نے کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ہم اپنا پیغام دے چکے تھے اور وہ پیغام واضح تھا کہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور دہشت گردی کی ایک قیمت ادا کرنی ہو گی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا، یہ تو بس آغاز ہے۔‘
شاعر دشینت کمار کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے یہ نثر پڑھی ’میرا مقصد صرف ہنگامہ کھڑا کرنا نہیں، میری کوشش ہے کہ صورت بدلنی چاہیے۔‘
انڈین عسکری حکام کی جانب سے مزید کہا گیا کہ ’اگر آپریشن سندور ایک متوازن اور نپے تلے عزم کا ثبوت تھا، تو ہمارا اگلا ردِعمل مسلسل برتری کے بارے میں ہو گا۔ اگر ہمیں دوبارہ چیلنج کیا گیا تو ہم محض جواب نہیں دیں گے بلکہ بیرونی حدود سے ہی میدانِ جنگ کی صورتِحال کو تشکیل دیں گے۔‘
لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی نے دعویٰ کیا کہ ’یہ حقیقت ہے کہ پاکستان اور چین کے تعلقات، اُن کے اپنے الفاظ میں، سمندروں سے گہرے اور پہاڑوں سے بلند ہیں۔ اسی طرح یہ بات بھی واضح ہے کہ پاکستان کے 80 فیصد فوجی سازوسامان چینی ساختہ ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’چاہے ہمیں ایک ہی سرحد پر ترکی، چین یا پاکستان جیسے تین مخالفین کا سامنا کیوں نہ ہو، حقیقت یہ ہے کہ مقابلہ اسی ٹیم سے کرنا ہوتا ہے جو میدان میں موجود ہو۔ لہٰذا یہ کوئی ایسی بات نہیں جس پر ہمیں بے حد تشویش ہونی چاہیے، اور نہ ہی یہ ہمارے کنٹرول میں ہے۔‘
انھوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ’انڈیا اور اس کی مسلح افواج ان تمام چیلنجز سے نمٹنے کی راہ پر گامزن ہیں۔ اسی تناظر میں، ایک سال بعد ہم آپ کے سامنے موجود ہیں تاکہ آپ کو یہ یقین دہانی کرا سکیں کہ گذشتہ سال حاصل کیے گئے اسباق کو بخوبی اپنایا جا چکا ہے اور ہم مسلسل آگے بڑھنے کے راستے پر ہیں۔‘
Share this content:


